داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں: امام کعبہ صالح بن عبدالله بن حمید

 

  تسنیم نیوز: امام کعبہ شیخ صالح عبداللہ بن حمیدنے اتوار کو نجی ٹی وی کودیئے گئے انٹرویومیں کہاہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والااتحادکسی ایک  خاص ملک کی مخالفت میں  نہیں ہے بلکہ ، یہ اسلامی ممالک کومتحدرکھنے کیلئے ہے- امام کعبہ نے  مسلمانوں کی عالمگیر سطح پر موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آج مسلمانوں کودرپیش مشکلات  و تمام مسائل کی اصل وجہ آپسی  اختلافات اورفرقہ واریت ہے- انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کے حال کے لئے مسلمانوں کو متحد ہونا پڑیگا اورصرف  کلمہ حق پرعمل کرکے فرقہ پرستی کاخاتمہ کیا جا سکتا ہے-
 انہوں نے بات چیت کے دوران جہاد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ملک میں کسی   فرد واحد  یا تنظیم کو جہاد کا اختیار نہیں ہے بلکہ ، جہادکافیصلہ تو  اسلامی ریاست ہی کرسکتی ہے۔انہوں نے جہاد کے نام پر   داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کی طرف سے قتل و غارتگری کئے جانے پر دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ” داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے- بلکہ  یہ تنظیمیں اسلام کو صرف بدنام کررہی ہیں- امام کعبہ نے کہاکہ جہاداسلامی تعلیمات کااہم رکن ہے، لیکن  جہاد صرف منظم اسلامی امام اورحاکم وقت کے ماتحت  ہی کیاجاسکتاہے-اس سے ہٹ کرکوئی جہادکرے تووہ جہادنہیں ہوگا،طاقت سے برائی روکنے کااختیاراورذمہ داری صرف  حاکم وقت اورریاستی اداروں کی ہے۔
انہوں نےاس بابت اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  میرے نزدیک انفرادی اورتنظیمی جہادکی کوئی گنجائش نہیں ہے، چاہے کوئی اسلامی ملک کتناہی کمزورکیوں نہ ہو-بہت سے اسلامی ممالک میں انفرادی یاتنظیمی جہادکی وجہ سے ہی غیرملکی طاقتوں کوداخل ہونے کاموقع ملا۔
امام کعبہ شیخ صالح عبداللہ بن حمیدنے کہاکہ دنیاوی مصلحتوں کے تحت اہل مغرب کے تحت تعلقات جوڑاجاسکتاہے ۔دنیوی طورپرغیرمسلم ریاست کے ساتھ تعلقات رکھنادرست نہیں ،مصلحتیں کسی ملک کی ذاتی کمزوراورطاقت کی بناء پرہوئی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اسلامی ریاست میں ایساجائزنہیں کہ کوئی بھی فرد اٹھے اور کسی پر کفر کا فتویٰ لگا دیں، اگرکسی پر کوئی الزام لگتاہے تومعاملہ پہلے عدالت میں جاتاہے، عدالت الزام ثابت کرے تو اس پر فتویٰ حکومت لگاتی ہے۔
امام کعبہ نے کہاکہ میرے خیال میں اسلامی ممالک کاکسی بھی قسم کاکوئی بھی اتحاد ہو وہ خوشی کی بات ہوگی۔ میرے پاس سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے اسلامی اتحاد کی زیادہ تفصیلات نہیں ہیں کیوں کہ یہ میری فیلڈ نہیں ہے، اگر یہ اتحادسعودی عرب کے بجائے کسی اور ملک کی سربراہی میں بنتا تب بھی میں اس کوخوشی کی نظرسے دیکھتا، اس طرح کہ اگر اور بھی اتحاد بنیں جو مسلم ممالک کو جوڑنے کاسبب بنیں تو اس کو اچھی نظرسے دیکھناچاہئے۔

 

انہوں نے کہاکہ اسلامی ممالک کے اتحادکے بارے میں بدگمانی نہیں ہونی چاہئے یہ کسی ایک ملک کے خلاف نہیں ہے، یہ اتحادمسلمان ممالک کواکٹھا رکھنے کیلئے ہے۔فوٹو کریڈٹ: تسنیم نیوز 

Leave a Reply