سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کا فلسطینی صدر محمود عباس کو بیت المقدس میں غیر قانونی یہودی آبادکاریوں کے خلاف نہ بولنے کا مشورہ

انگریزی روزنامہ نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے فلسطینی صدر محمود عباس کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بیت المقدس میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف نہ بولیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے تسنیم نے نیویارک ٹائمز کے حوالے سے بتایا ہے کہ آل سعود کے ولیعہد محمد بن سلمان نے فلسطینی صدر محمود عباس کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بیت المقدس کے مسئلے کو فراموش کردیں۔

نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک ماہ قبل سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، اس دورے کے دوران سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے محمود عباس کو تجویز پیش کی تھی کہ وہ مسئلہ بیت المقدس کو فراموش کردیں۔

واضح رہے کہ فلسطینی عوام کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان نے فلسطینی صدر کو جو تجاویز پیش کیں وہ سب اسرائیل کے مفادات میں ہیں اور اس قسم کی تجاویز فلسطینی عوام کبھی قبول نہیں کریں گے۔

بن سلمان نے محمود عباس سے کہا تھا کہ تارکین وطن فلسطینیوں کو واپسی کا کوئی حق نہیں، غیر قانونی یہودی بستیوں کو تسلیم کیا جائے اور بیت المقدس کے مسئلہ کو فراموش کردیا جائے تو اس صورت میں مستقل فلسطینی ملک تشکیل پاسکتا ہے۔

بن سلمان کی اسلام دشمن تجاویز پر فلسطینی مسلمانوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس قسم کی تمام تر تجاویز کو اسلام دشمن اور صہیونیوں کے حق میں قرار دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply