عدل کا چشمہ سوکھ گیا، عدل کے پیاسے پیش ہوئے

ڈاکٹر سلیم خان

افراد کے امراض کا علاج اسپتال میں ہوتا مگر اجتماعی بیماریوں سے نجات کے لیے عدالت سے رجوع کیا جاتاہے۔ ایسے میں اگر عدلیہ خود بیمار ہوجائے تو سماج کی دگرگوں حالت زارکا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ میں جاری حالیہ تنازع گواہ ہے کہ نظام حکومت کے اس اہم ترین ستون کو بھی بدعنوانی کی دیمک چاٹنے لگی ہے ۔ اس کے اپنے بوجھ سے زمین دوز ہوجا نےپر عدل و انصاف کا چراغ بجھ جائیگا اور چہار جانب جبر و ظلم کی ظلمت چھا جائیگی۔ حکومت کی گاڑی کے چار پہیوں پر چلتی ہے۔ ان میں سے ایک انتظامیہ ،دوسرا مقننہ ، تیسرا عدلیہ اور چوتھا ذرائع ابلاغ ہے۔ آزادی کے بعد سب سے پہلے انتظامیہ کے اندر بدعنوانی کے مرض نے اپنے قدم جمائے اس کا آغاز پنڈت نہرو کے زمانے میں ہوگیا تھا۔ اندرا گاندھی کے دور اس نے مقننہ میں پیر پسارنے شروع کیے آگے چل کے مسٹر کلین کے کہلانے والے راجیو گاندھی کو اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا۔ ذرائع ابلاغ کو طوائف الملوکی کا شکار کرکے کوٹھے پر نیلام کرنے کا کارنامہ نریندر مودی کے زمانے میں انجام دیا گیا ۔ عدلیہ سے کھلواڑ کا آغاز ویسے اندرا جی کے دور اقتدار میں ہوچکا تھا لیکن اب وہ خود اپنے پیر پر کلہاڑی ماررہا ہے ۔ حکمرانوں کو اس سے بے چینی نہیں ہے کیونکہ ہر بدعنوان چاہتا ہے ساری دنیا اس کی مانند کرپٹ ہوجائے نیز اس پر اعتراض کرنے والا کوئی باقی نہ رہے ۔

سپریم کورٹ میں جاری مہابھارت نہایت دلچسپ موڑ پر آپہنچی ہے۔ اس کی ابتداء ماہِ ستمبر کے وسط میں ہوئی جب مرکزی تفتیشی ادارہ (سی بی آئی ) نے بدعنوانی کے معاملہ میں اڑیسہ ہائی کورٹ کے ایک سابق جج سمیت پانچ افراد کو گرفتار کرلیا۔ آئی ایم قدوسی پر وشوناتھ اگروال کی مدد سے سپریم کورٹ سے ۴۶ میڈیکل کالجوں میں نامزدگی پر لگی پابندی سے راحت دلانے کی سازش کا الزام ہے۔گرفتار شدگان میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے میرٹھ کے وینکیٹشور میڈیکل کالج کے سدھیر دانا، بھاونا پانڈے، وشوناتھ اگروال اور حوالہ کاروباری رام دیو سارسمیت رشوت دینے والے لکھنؤ کے پرساد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیز کے مالک بی ڈی یادو اور پلاش یادو شامل تھے۔

اطلاعات کے مطابق پرساد ایجوکیشنل ٹرسٹ نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ عرضی دائر کی تھی۔ بی ڈی یادو نے اس مقدمہ میں تعاون کے لیےآئی ایم قدوسی اور بھاوناپانڈے سے رابطہ کیا ۔ان لوگوں نے اپنے روابط کی بدولت سپریم کورٹ میں معاملے کو رفع دفع کرانے کی یقین دہانی کی اور بھونیشور کے وشوناتھ اگروال کو سپریم کورٹ میں فیصلہ موافق کروانے کا ذمہ سونپا۔ وشوناتھ کا دعویٰ تھا کہ اس معاملے سےمنسلک اہم عہدیداروں سے اس کا قریبی تعلق ہے۔ اس بناء پر یقین دہانی کی گئی کہ وہ اس تنازع کا فیصلہ ان کی مرضی کے مطابق کروا سکتا ہے لیکن، بدعنوانی اور غیر قانونی طریقے سے عہدیداروں کو لالچ دےکر اپنا ہمنوا بنانے کے لیے خاصی رقم درکار ہے۔

اس سازش کا پردہ فاش ہونے کے بعد سی بی آئی نے اڑیسہ ہائی کورٹ کے سابق جج آئی ایم قدوسی کے خلاف بدعنوانی کی روک تھام یعنی پروینشن آف کرپشن ایکٹ ؁۱۹۸۸ اور آئی پی سی کی دفعہ۱۲۰بی کے تحت سازش کا مقدمہ درج کیا ۔ایف آئی آرمیں قدوسی پر پانڈے کے ساتھ مل کر لکھنؤکے پرساد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے معاملے کوا سٹے کرنے کی سازش رچی۔یہ ان ۴۶ کالجوں میں سے ایک تھا جن پر سہولیات کے غیر معیاری ہونے کے سبب حکومت نے ایک یا دو سال کے لئے میڈیکل سیٹوں پر داخلے پر روک لگا دی تھی۔ یہ نہایت افسوسناک صورتحال ہے کہ تعلیم جیسا مقدس شعبہ خالص تجارت بن چکا ہے۔ ان اداروں کے مالکین طلباء کی خاطر ضروری سہولیات پر تو روپئے خرچ نہیں کرتے مگر پابندی کی وجہ سے ہونے والے خسارے کی بھرپائی کے لیے رشوت دینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں ۔

بدعنوانی کا زہر قومی جسد کے نس نس میں سرائیت کر گیا ہے ۔ اس کا اندازہ ستمبر کے اندر شائع ہونے والے ایک بین الاقوامی جائزے سے لگایا جاسکتا ہے جس میں ہندوستان کو ایشیا کا بدعنوان ترین ملک قرار دیا گیا اور پاکستان جیسے بدنام زمانہ ملک کو چوتھے مقام پر رکھا گیا۔ اس سال ہندوستان میں بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے نوٹ بندی جیسا انتہائی قدم اٹھایا گیا جس میں سیکڑوں لوگوں نے اے ٹی ایم کی قطار میں جان گنوائی۔ نوٹ بندی کی سالگرہ کو ڈھٹائی کے ساتھ بدعنوانی کے خاتمہ کا دن بتایا گیا لیکن حقیقت یہ ہے اس میدان میں ہمارا ملک ایشیا کے اندر اول مقام پر پہنچ گیا۔

مودی جی آمد سے قبل ہندوستان ۱۰۰ میں سے ۳۸ ویں مقام پر تھا ۔ پہلے سال میں جب مودی جی دنیا بھر کی سیر کررہے تھے اس لیےبدعنوانی کے میدان میں کوئی خاص ترقی نہیں ہوئی اور ہندوستان ۳۸ ویں مقام پر اٹکا رہا لیکن جب انہوں نے ملک کے معاملات میں دلچسپی لینا شروع کی تو وہ ۱۶۸ ممالک کی فہرست میں ترقی کرکے ۷۶ ویں مقام پر پہنچ گیا۔ کرپشن کے میدان میں اس عظیم کامیابی کا سہرہ اس وزیراعظم کے سر ہے جو کہا کرتا تھا ’نہ کھاوں گا نہ کھانے دوں گا‘ اور ’میرے آگے پیچھے کون ہے جس کے لیے میں رشوت لوں‘ ۔ اب لوگوں کو پتہ چلا کہ ان کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں امیت شاہ، اجیت ڈوول، اجئے سنہا اور وجئے روپانی جیسے نہ جانے کتنے لوگ ہیں ۔ اس کے باوجود ذرائع ابلاغ کی مدد سے عوام کو فریب دینے میں انہوں نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ملک میں بدعنوانی کی شرح ۶۹ فیصد ہونے کے باوجود ۵۳ فیصد لوگ یہ خیال کرتے ہیں مودی جی بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے بہت کچھ کررہے ہیں ۔ ممکن ہے بدعنوانی کے نئے معاملا ت منظر عام پر آنے بعد ۵۳ فیصد میں کمی واقع ہو۔ ویسے ۶۳ فیصد لوگوں سوچتے ہیں کہ عام آدمی ہی کوئی ٹھوس تبدیلی لا سکتا ہے۔

اس جائزے سے پتہ چلا ہےکہ صحت اور تعلیم کے میدان میں ہندوستان کی بدعنوانی نے ساری دنیا کے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ صحت عامہ کی ۵۹ فیصد تو عوامی تعلیم گاہوں میں داخلے کے لیے ۵۸ فیصد کو روشوت دینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے ۔ اتفاق سے سپریم کورٹ کا تنازعہ طبی تعلیم گاہوں سے متعلق ہے ۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے جن کالجوں کے منتظمین عدالت تک کو رشوت دینے سے نہیں ڈرتے وہ عوام سے ڈونیشن لینے سے کیسے باز رہ سکتے ہیں۔ اس معاملے میں یوں تو ہائی کورٹ کا سبکدوش جج ملزم ہے لیکن الزام یہ ہے کہ اس نے سپریم کورٹ کے ججوں کے نام پر پیسے لئے تھے ۔۱۸ ستمبر کو مقدمہ کی سماعت عدالت عظمیٰ میں ہوئی اور ۱۹ستمبر کو سی بی آئی نے ایف آئی آردرج کی۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سنگین معاملے میں ملزمین کو بہ آسانی ضمانت مل گئی اور سی بی آئی نے اس کے خلاف اپیل کرنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ مرکزی تفتیشی ادارے کا یہ رویہ اس کے نرم گوشے کی چغلی کھاتا ہے اس لیے یہ اندیشہ بیجا نہیں ہے کہ وہ ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کر سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرکے آزادانہ تفتیش کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بےحد حساس مسئلے کی جانچ کے لئے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی جائے ۔ پرشانت بھوشن کے مطابق موجودہ حالات میں چونکہ سی بی آئی مرکزی حکومت کے ہاتھوں کا کھلونا بنی ہوئی ہے اور حکومت اس معلومات کا استعمال اپنے فائدے کے لئے کر سکتی ہے اس لیے سی بی آئی کے بجائے ایس آئی ٹی کو یہ ذمہ داری سونپی جائے۔ یہ معاملہ چونکہ عدلیہ کی ایمانداری اور اس کی ساکھ سے متعلق ہے، اس لئے جسٹس جےچیلامیشور کی بنچ نے ۹ نومبرکے دن مدعا علیہ کو نوٹس بھیجا اورسی بی آئی کو کیس ڈائری سمیت تفتیش سے متعلق تمام اہم دستاویز کو بند لفافے میں سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت دی۔بنچ نے ( چیف جسٹس سمیت) کورٹ کے پانچ سینئرججوں کی آئینی بنچ کے سامنے آئندہ سماعت ۱۳ نومبر کو مقرر کردی۔

اس معاملے میں غیر ضروری جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۱۰ نومبر کو، چیف جسٹس دیپک مشرا نے ایک سات ججوں کی بنچ (جو کہ سماعت شروع ہونے سے پہلے ۵ رکنی بنچ میں بدل دی گئی تھی)تشکیل دی اور خود کو اس کو سربراہ مقرر کردیا۔ اس بنچ نے جسٹس چیلامیشور کے فیصلے کو اس بنیاد پر ردکر دیا کہ بنچ کی تشکیل کا حق صرف اور صرف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نو تشکیل شدہ آئینی بنچ میں چیف جسٹس نے اپنے علاوہ پانچ سینئر ججوں میں سے کسی کو بھی منتخب نہیں کیا ۔ اس کے معنیٰ یہی ہوتے ہیں کہ چیف جسٹس کو اپنے بعدکے چارسینئر ججوں میں سے کسی پر اعتماد نہیں ہے ورنہ کم ازکم ان میں سے ایک شامل ہوتا۔

چیف جسٹس آئینی بنچ کی صدارت کرتے ہوئے بھول گئے کہ آئین میں ایسا کہیں نہیں لکھا ہے کہ صرف چیف جسٹس ہی بنچ کی تشکیل کر سکتا ہے۔ دستور کی دفع ۱۴۲ کےتحت سپریم کورٹ جسٹس چیلامیشور کی بنچ کے حکم کو کوئی رد نہیں کرسکتا اس لیے ۱۰ نومبر کا حکم مبنی بر انصاف نہیں ہے اور چیف جسٹس کے اختیارات سے پرے ہونے کے سبب ناقابل قبول ہے۔ روپا ہرّا معاملے میں آئینی بنچ نے صاف طور پر کہا تھا کہ سپریم کورٹ کی کسی بنچ کے کسی بھی فیصلے کو سپریم کورٹ کے کسی دیگر بنچ کے ذریعے خارج نہیں کیا جا سکتا، بھلےہی ایسا کسی بڑی بنچ کے ذریعے کیوں نہ کیا جائے۔اس طرح چیف جسٹس نے خود عدالت کے اندر آئین کو پامال کرنے کے مرتکب ہوئے۔

سی بی آئی کی فردِ جرم میں گو کہ چیف جسٹس دیپک مشرا کا نام نہیں ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب یہ سازش رچی جا رہی تھی، تب معاملہ ان کی بنچ کے سامنے زیر سماعت تھا۔اس سازش کا سوتردھار وشوناتھ اگروال اڑیسہ سے ہے اور معاون ملزم آئی ایم قدّوسی بھی اڑیسہ ہائی کورٹ کا سابق جج تھا۔ دیپک مشرا کی آبائی ریاست بھی اڑیسہ ہے۔ ان حالات میں مناسب یہی تھا کہ چیف جسٹس اس معاملے سے دور رہتے ۔ ان کو تو اس معاملے میں عدالتی ہی نہیں، انتظامی امور سے بھی خود کو الگ کر لینا چاہیے تھا لیکن افسوس کہ وہ ایسا نہیں کرسکے۔ اس معاملے ایک اور موڑ اس وقت آیا جب سپریم کورٹ کی سینئر وکیل کامنی جیسوال نے یہ جانتے بوجھتے کہ معاملہ زیر سماعت ایک نئی عرضی داخل کردی اور سابق جج کی نگرانی میں ایس آئی ٹی کے ذریعہ تفتیش کی مانگ کرڈالی ۔

سپریم کورٹ کے تین ججوں کی بنچ نے سماعت کے بعدپہلے فیصلہ موقوف کیا اور دو دن بعد صادر کردیا ۔اس معاملے کورٹ کے اندر غیر معمولی گہم گہمی برپا کی گئی جس کے نتیجے میں اے جی کےکے وینو گوپال کو جج کاریڈور سے سے اندر لانا پڑا۔ سماعت کے دوران جسٹس ارون مشرا نے پوچھا کہ جب پہلی پٹیشن جسٹس سیکری کی عدالت جمعہ کے دن سنی جانی ہے تو دوسری عرضی داخل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ایسا عدلیہ کو بدنام کرنے کے لئے کیا گیا ہے، کیونکہ چیف جسٹس آف انڈیا بھی ادارے کا ہی حصہ ہیں۔درخواست گزار کے وکیل شانتی بھوشن نے جسٹس چیلامیشور کے فیصلے کو درست ٹھہرایا ۔پرشانت بھوشن نے کہا کہ جسٹس کھانویلکر کو یہ کیس نہیں سننا چاہئے کیونکہ وہ بھی میڈیکل کالج کے فیصلے میں شامل تھے۔لیکن جسٹس کھانویلکر نے اس سے انکار کر دیا۔

شانتی بھوشن نے کہا کہ آئین کی آرٹیکل ۱۴۴ کے تحت آئینی بنچ کے فیصلہ کا اطلاق چیف جسٹس پر بھی ہوگا۔ اے جی کے کے وینو گوپال نے اسے سی جے آئی پر الزام تراشی اور عدالت کی توہین قرار دیا۔ دوسری سماعت میں کامنی جیسوال کی درخواست مسترد ہوگئی۔ جسٹس آر کے اگروال کی قیادت والی سپریم کورٹ کی ایک سہ رکنی بنچ نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ ’’عرضی اہانت آمیز ہے لیکن ہم عرضی گذار کے خلاف کوئی حکم جاری نہیں کررہے ہیں۔ اگرچہ ہم قانون سے بالاتر نہیں لیکن عمل ضابطہ کے تحت ہونا چاہئے، عدالتی حکم کے ذریعہ کسی جج کے خلاف کوئی فرد جرم نہیں درج کی جاسکتی‘‘۔عدالت نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی کہا کہ سینئر وکیل نے غیر مصدقہ اور بلا ثبوت الزام تراشی کی ہے جو ایک عظیم ادارے پر شبہ کا اظہار ہے۔سہ رکنی بنچ نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کی سینئر وکیل نے حقائق کی بنیادی تصدیق کے بغیر چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف غیر ذمہ دارانہ الزامات عائد کئے ہیں‘‘۔

جسٹس اگروال کا فیصلہ اپنی جگہ لیکن اس معاملے چیف جسٹس نے جس طرح کی بے چینی کا مظاہرہ کیا اس سے عدالت عظمیٰ کا وقار پامال ہوا ہے اور جہاں تک عدلیہ پر اعتماد کا سوال اس کو متاثر کرنے کے لیے دہلی کی تیس ہزاری عدالت میں رونما ہونے والا ایک سانحہ کافی ہے۔ اسی سال ماہِ ستمبر میں سی بی آئی نے مذکورہ کورٹ کی سینئر جج رچنا تیواری لكھن پال اور ان کے شوہر کو ایک وکیل وشال موہن سے چار لاکھ روپے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ایک متنازع جائیداد میں من چاہی رپورٹ دینے کے لیے وکیل نے جج کے لیے ۲۰ لاکھ روپئے اپنا ۲ لاکھ کمیشن مانگا جس کی پہلی قسط ۴ لاکھ تھی ۔ سی بی آئی کے ترجمان آر کے گوڑ نے جج کی رہائش گاہ پر چھاپہ ماری میں ۹۴ لاکھ روپے ضبط کئے ۔

جسٹس دیپک مشرا نے اپنے ایک فیصلے میں لکھا تھا کہ’’ جمہوری سیاست ، اپنے اعلیٰ ترین مفہوم میں بدعنوانی کے تصور سے پاک ہے۔ خاص طور پر اعلیٰ عہدوں کا کرپشن ‘‘ لیکن وہ خود بدعنوانی کے اعتراض کی زد میں ہیں۔ ؁۱۹۷۹ میں دوایکڑ سرکاری زرعی زمین حاصل کرنے کے لیے انہوں ایک حلف نامہ داخل کیا اور اعتراف کیا میں براہمن ہوں اور میرے پاس کوئی زمین نہیں ہے۔ یہ زمین ان سے واپس لے لی گئی اس لیے اس کا حقدار وہی ہوسکتا تھا جس کی زراعت کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ آمدنی نہ ہو۔ اروناچل پردیش کے سابق وزیراعلیٰ کالکھو پل نے خودکشی سے قبل اپنی وصیت میں جن لوگوں پر بدعنوانی کا الزام لگایا تھا ان میں بھی دیپک مشرا کا نام شامل تھا ۔ اس پس منظر میں قدوسی معاملے کے اندر دیپک مشرا کی غیر معمولی دلچسپی شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔ دیپک مشرا سے قبل اڑیسہ کے رہنے والے رنگناتھ مشرا کو راجیو گاندھی نے چیف جسٹس نامزد کیا تھا۔ انہیں کے دور اندرا گاندھی کےقتل پر ہونے والے قتل عام کے مقدمات کی سماعت ہوئی لیکن کسی اہم سیاستداں کو سزا نہیں ہوئی۔ اس خدمت کے بدلے انہیں راجیہ سبھا کی رکنیت سے نوازہ گیا۔ دیپک مشرا نے اپنے حلف نامہ میں اعتراف کیا تھا کہ وہ براہمن ہیں ان دونوں براہمن ججوں کا رویہ ؁۱۹۱۹ میں انگریزوں کے اس فیصلے کی تائید کرتا ہے براہمن کا منصفانہ کردار نہیں ہوتا اس لیےبراہمنوں کے جج بنائے جانے پر پابندی لگا دی جائے۔ کوئی نہیں جانتا دیپک مشرا سرکاری انعام و اکرام کے لیے آگے کیا گل کھلائیں لیکن عدلیہ کا یہ انحطاط ملک کے لیے ایک صدمہ جانکاہ ہے۔ اس لئے کہ بقول بشیر ناقد؎

اگر عدل سے نسل محروم ہوگی                 تو پھر دیکھنا لوگ رہزن بنیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply