قومی سیاست پر لسانی اور علاقائی عصبیت حاوی ہے۔

نہال صغیر
شیو سینا اور بی جے پی میں سیٹوں کی تقسیم کو لے کرعلیحدگی ہو گئی یا راج ٹھاکرے کے بقول طلاق ہو گیا۔شیو سینا بی جے پی کو جتنی سیٹ پر سمجھوتہ کرنے کوکہہ رہی تھی وہ اسے منظور نہیں۔ادھر کانگریس اور این سی پی میں بھی یہی معاملہ ہوا۔یہاں اس بات سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ شیو سینا بی جے پی اور کانگریس این سی پی میں کس طرح کے مفاد ات کا ٹکراؤ ہے ۔ یا دونوں محاذوں میں تنازعہ کی وجہ مختلف کیوں ہے ؟کانگریس این سی پی سے الگ شیو سینا بی جے پی کا معاملہ میں کئی باتیں ایسی ہیں جس کی وجہ سے ان میں سمجھوتہ نہیں ہو پایا ۔پہلی وجہ جو سمجھ میں آرہی ہے وہ ہے اپنی اہمیت جتانے کا دوسری وجہ لسانی اور علاقائی دبدبہ کا ہے ۔یہی دونوں معاملات ہیں جس نے انہیں سمجھوتہ کی میز پر اکٹھا ہونے سے روکے رکھا۔لوگوں کو یاد ہو گا کہ شیو سینا نے اس سے قبل صدر جمہوریہ کے انتخاب میں کانگریسی امیدوار پرتبھا پاٹل کی حمایت صرف اس بنا پر کی تھی کیوں کہ ان کا تعلق مہاراشٹر سے تھا ۔جبکہ بی جے پی اس کی حلیف پارٹی تھی اس کے امیدوار بھیروں سنگھ شیخاوت کو جو اس سے قبل نائب صدر تھے کی حمایت صرف اس بنا پر نہیں کی کیوں کہ وہ ایک ہندی زبان کی ریاست راجستھان سے تعلق رکھتے تھے ۔ اتحاد ٹوٹنے سے قبل شیو سینا کی طرف سے ایک بیان بار بار آرہا ہے کہ’’ اسے مہاراشٹر کا وقار زیادہ عزیز ہے ‘‘۔ شیو سینا نے کہیں بھی اور کبھی بھی یہ بات چھپانے کی کوشش نہیں کی ،بلکہ اس نے برجستہ کہا کہ وہ مہاراشٹر کے (مان سمان)عزت و وقار سے سمجھوتہ نہیں کرے گی۔بال ٹھاکرے کی موت کے بعد عام طور پر لوگوں کی رائے یہ تھی کہ شیو سینا کا زریں دور اب ماضی کی داستان بن جائے گا۔لیکن حالیہ پارلیمانی انتخاب میں یہ بات ثابت ہو گئی کہ اب بھی شیو سینا کا جادو مراٹھیوں کے سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔شیو سینا کی بھی پریشانی یہ ہے کہ وہ بی جے پی کو ہندتو کے نام پر سہولیات دیتی ہے تو یہ مہاراشٹر کے مان سمان کی بات کرنے والی پارٹی کے وجود پر سوالیہ نشان لگادے گا ۔لہٰذاانہوں نے بی جے پی کو آنکھیں دکھانا شروع کیا اور انہیں اپنے وجود کو سمیٹے رکھنے کیلئے مجبور کیا ۔لیکن حالیہ انتخاب میں بی جے پی کی غیر معمولی کامیابی کی وجہ سے اس کی انا اس بات کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ شیو سینا بی جے پی کے نام نہاد مودی لہر کی حالیہ ضمنی انتخاب میں ہونے والی درگت دیکھنے کے بعد اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط کرنے کی طرف دھیان دے رہی ہے ۔یہی ان دونوں میں موجودہ کشمکش کی واحد وجہ نظر آتی ہے۔ 

مذکورہ بالا تجزیے کی روشنی میں مسلمانوں کیلئے کئی پیغام ہیں ۔ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ ملک عزیز میں ہندو تو جس کا شور مچا کر مسلمانوں کو خوف زدہ کیا جارہا ہے اس کی جڑیں مضبوط نہیں ہیں بلکہ علاقائی اور لسانی عصبیت ہندوتو نظریہ پر حاوی ہے۔اس ملک میں مسلمان اس وقت آئے تھے جب یہاں اس نام سے بھی کوئی واقف نہیں تھا لیکن یہاں کے لوگوں نے اجنبی مذہب اور تہذیب کے علمبردار ہونے کے باوجود ان کا استقبال کیا تھا۔آج بھی مسلمانوں کے لئے حالات زیادہ برے نہیں ہیں۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ علاقائی سیاست سے دور نہ رہیں اور نہ علاقائی مسائل و لسانی مسائل سے بے پرواہ ہوں ۔ مہاراشٹر میں مسلمانوں کی ایک کمی یہ رہی ہے کہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ مراٹھی زبان سے لا تعلق ہے ۔آج بھی وہ اس سے جڑنے کو تیار نہیں ہے۔اس کو اپنی اس کمی کا احتساب کرنا ہی ہوگا ،اس کے بغیر وہ مہاراشٹر کی سیاست میں موثر رول نہیں نبھا سکتے۔اسی طرح علاقائی مسائل میں انہیں دلچسپی لینا چاہئے ۔مہاراشٹر کا سب سے بڑا مسئلہ کسانوں کی خودکشی اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا ہے جبکہ مہاراشٹر ہندوستان کی ترقی میں سب سے بڑی شراکت داری والی ریاست ہے۔سب سے زیادہ صنعتوں والی ریاست ہونے کے باوجود 4.5 فیصد شرح بے روزگاری کے ساتھ بے روزگاری میں مہاراشٹر سرفہرست ہے۔اس کے علاوہ کچھ علاقائی تحریک بھی چلتی ہے اور اس کے اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں ۔مسلمانوں کو اس سے بھی لاتعلق نہیں رہنا چاہئے ۔کئی ایسی تحریکیں بھی چلتی ہیں جس میں مسلمانوں کو بہت ہی غور و فکر کے بعد کوئی فیصلہ لینا چاہیے ۔بغیر سوچے سمجھے چند جذباتی نعروں میں بہہ کر کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا نا چاہئے جس سے قوم کا سواد اعظم متاثر ہو۔ہم ملک کی کئی ریاستوں میں اس کی مختلف صورتیں دیکھ رہے ہیں جس میں مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑرہاہے ۔کئی ایسی تحریک بھی ہے جس کو مسلمانوں کی شمولیت نے زیادہ موثر اور پائیدار بنایا ہم مثال کے طور پر تلنگانہ کی تحریک کو پیش کر سکتے ہیں جس میں مسلمانوں نے متحرک کردار ادا کیا اور اس کے فوائد بھی انہیں ملیں گے ۔ لیکن کئی ایسی بھی جگہ ہے جہاں مسلمانوں نے محض وطن پرستی کا ثبوت دینے کیلئے عوامی تحریک سے دور بھی رہے اور اس کی مخالفت بھی کی جس سے انہیں کافی نقصان بھی اٹھانا پڑ ے گا ۔ہم اس کی مثال تو فی الحال پیش نہیں کرسکتے لیکن وقت آنے پر اس کا احساس ہو جائے گا کہ وہ اس میں غلط تھے ۔دراصل مسلمانوں کو اتنا زیادہ انتشار اور خوف میں مبتلا کردیا گیا ہے کہ وہ اب وطن دوستی اور حب الوطنی کا ثبوت دینے اور دوسروں سے آگے بڑھنے میں سیاسی نقصان کو بھی فراموش کر جاتے ہیں ۔کسی اہم مسئلہ پر ایک اردو اخبار کی ہیڈ لائین کے بارے میں ایک مراٹھی اخبار کے اپنے ایک دوست رپورٹر سے اس کا تذکرہ کیا تو اس کا جواب تھا’’اتنے وفادار تو ہم بھی نہیں ‘‘ظاہر سی بات ہے کہ اس اردو اخبار کی وہ ہیڈ لائن حقیقت پر مبنی ہونے کی بجائے چاپلوسی کی بد ترین مثال تھی جس پر مراٹھی کے رپورٹر نے وہ بات کہی تھی۔ہماری کچھ تنظیمیں بھی مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کرنے کی بجائے انہیں گمراہ کررہی ہیں ۔ہم جہاں رہتے ہیں وہاں کی سیاست اور سماجی اور معاشرتی تبدیلیوں سے ہم اپنے آپ کو متاثر ہو نے سے نہیں روک سکتے ۔لہٰذا ہمیں مقامی اور علاقائی حالات مسائل اور سیاسی معاملات کا ادراک ہونا ضروری ہے ۔مسائل طاقت ،تشدد اور لاپرواہی سے حل نہیں ہوتے بلکہ اس میں شامل ہو کر تدبر و تفکر سے کام لے کر ہی اس کا حل نکالا جاسکتا ہے۔مسلمانوں ،ملی تنظیموں اور ملی قائدین کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔لیکن یہ صحیح سیاسی شعور اور مثبت نظریہ کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔کیا ہم اس جانب بھی قدم بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

Leave a Reply