جماعت اسلامی ہند کا مسلم پرسنل لاء بیداری مہم

ممبئی : ملک کی جانی مانی مسلم تنظیم جماعت اسلامی ہند 23 اپریل سے مسلم پرسنل لاء کے بارے میں مسلمانوں میں بیداری اور غیر مسلموں کو اسلامی قوانین کے متعلق فی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی غرض سے ایک ملک گیر مہم شروع کرنے جا رہی ہے ، جو 07 مئی 2017 تک چلےگی – اس مہم کے اغراض و مقاصد بارے میں بتانے کے لئے یہاں تنظیم کی خواتین یونٹ نے ایک پریس کانفرنس منعقد کیا – جسے مخاطب کرتے ہوئے خواتین کارکن نے کہا کہ، “گذشتہ کچھ دنوں سےقومی میڈیا میں مسلم پرسنل لاء نہ صرف سرخیوں میں ہے بلکہ یہ ٹی وی چینلز پر ملک کےبرننگ مسئلہ کے طور پر قومی میڈیا میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے- آج ہر شخص اس مسئلے پر اپنی قابلیت جھاڑتا نظر آ رہا ہے- لیکن ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ، مسلم برادری کا ایک بڑا طبقہ خود اسلامی خاندان کے قوانین سے آگاہی نہیں ہے- یہی وجہ ہے کہ، اکثر مسلم کمیونٹی کے لوگ جہالت کے سبب مسلم پرسنل قوانین پر بنیادی طور پر عمل نہیں کر پاتے ہیں اور چند نادان اور گمراہ لوگوں کی طرف سے کی گئی غلطیوں کی وجہ سے بھی مسلم پرسنل لاء نکتہ چینی کا سبب بن جاتا ہے- “

اپنی بات رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، “بے شک اسلامی شریعت کے اصولوں سے ناواقف ہونے اور مسلمانوں کی زندگی میں اس کی اہمیت کو سمجھے بغیر، ملک کی آئینی عدالت، مسلم پرسنل لاء کے برعکس فیصلہ لے لیتی ہے، جو بعد میں مسلم خاندانی تنازعات کے لئے نذیر بن جاتا ہے- مسئلہ اس وقت اور سنگین ہو جاتا ہے، جب میڈیا کا ایک سیکشن اسلامی قوانین کو قرون وسطیٰ کا قاعدہ بتا کر اس کی مطابقت پر ہی سوالیہ نشان لگا دیتا ہے اور مسلم قانون اور سماج کو دنیا کے سامنے ایک مذاق بنا کر پیش کرنے کا کام کرتا ہے- مسلم دشمن عناصر مسلم پرسنل لاء پر اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے سے بھی باز نہیں آتے ہیں- “

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال 1937 ء میں شرعیہ ایپلی کیشن ایکٹ (Shariat Application Act 1937) کو ملک میں برطانوی حکومت کے دوران مسلمانوں کی مانگ پر بنایا گیا تھا- اس کے بعد نکاح، طلاق، پرورش، میراث، وصیت، ہبا اور ولایت وغیرہ جیسے مسلمانوں کے باہمی خاندانی اور ذاتی معاملات کے فیصلے اسلامی شریعت کے مطابق ہونا طے پایا- آزادی کے بعد بھی،ملکی آئین نے مذہبی آزادی اپنے شہریوں کو عطا کیا، اس نے شہریوں کو بنیادی حق دیا اور اس کے خلاف ورزی کے بارے میں شہریوں کے مفادات کی حفاظت کے لئے آئینی انتظامات بھی کیے-

پریس سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت کی خاتون لیڈر نے کہا کہ ، “یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب بھی ملک میں سول کوڈ کی بات چلی ہے ، تو مسلم کمیونٹی نے اسکی مخالفت کی ہے- مسلم کمیونٹی کا عام سول کوڈ کی مخالفت کرنا بھی جائز ہے کیونکہ ملک کے تمام مذاہب کے مختلف عقائد ہیں- سب کے لئے ایک سول کوڈ نہ صرف غیر افادی اور عقل سلیم سے عاری ہے بلکہ آئین کی طرف سے فراہم کردہ مذہبی آزادی کے بنیادی حقوق کے خلاف بھی ہے-جہاں تک اسلامی خاندانی قوانین کا تعلق ہے، اسلامی شریعت کے قوانین اب بھی متعلقہ اور جائز ہیں، جیسا کہ یہ چودہ سو سال پہلے تھا- اس کے علاوہ، اسلامی قانون عورتوں کا احترام کرنے اورانکے عظمت کی حفاظت کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے- لیکن، ان قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کی سخت ضرورت ہے اور یہ کام صرف مسلم برادری کے ذریعہ ہی کیا جا سکتا ہے- یہ کام مسلم کمیونٹی میں لوگوں کو اسلامی خاندان کے قوانین کے تعلق سے تعلیم یافتہکرکے بخوبی کیا جا سکتا ہے ، لوگوں کو اس کے تئیں بیدارکرنا بھی وقت کا تقاضہ ہے-“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply