مودی کی باتیں ،جمہوری تماشہ اور بے چارے ہندوستانی عوام


نہال صغیر

وزیر اعظم مودی کی باتیں ،ان کے بلند و بانگ دعوے میڈیا میں ہر طرف بحث کا موضوع ہیں۔میڈیا میں ان کی باتیں چھانے کی واحد اور خاص وجہ میڈیا مینیجمنٹ ہے جس میں مودی کافی ماہر ہیں ۔یہ باتیں اب راز نہیں رہیں کہ ان کی جیت اور تاریخ ساز اکثریت میں جہاں قومی سرمایہ داروں کی تجوری نے کافی اہم رول نبھایا ہے وہیں بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی تحریک بھی شامل ہے ۔صرف قومی سرمایہ داروں کو اس کا ذمہ دار ماننا صحیح نہیں ہے۔قومی سرمایہ دار ہوں یا غیر ملکی دونوں کا ایک ہی مقصد ہے منافع کمانا اور ہر قیمت پر اپنے مالیاتی افزودگی کے عزائم کی تکمیل۔اس کا ایک ثبوت مودی جی کا حالیہ دورہ امریکہ ہے جہاں انہوں نے امریکی کمپنیوں کے سی ای او سے ملاقات کی جس کے بعد کئی اہم دوائیوں کی قیمت پچاس فیصد سے کئی سو گنا تک بڑھادی گئی ہیں اس میں کینسر میں کام آنے والی دوا جس کی قیمت پہلے آٹھ ہزار تھی اب اس کی قیمت ایک لاکھ آٹھ ہزار کردی گئی ہے ،شامل ہے۔ دراصل یہ جمہوری نظام جس پر بہت فخر کیا جاتا ہے ۔جس کی تعریف میں دنیا کے بڑے بڑے فلسفی مدح سرائی میں پورا زور صرف کر چکے ہیں اور دنیا کی بڑی قوتیں بھی دن رات اس کی شان میں قصیدے گاتی رہتی ہیں ۔لیکن اس نظام کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں جیت درج کرانا کسی ایماندار اور مخلص انسان کے بس کا روگ نہیں ۔ جس کی واضح مثال مصر میں ڈاکٹر مرسی کی حکومت کی معزولی ہے ۔ویسے وطن عزیز میں بھی شاید ہم ایک بھی ایسے آدمی کو نہیں ڈھونڈ پائیں جو ایمانداری ،سچائی ،اخلاص اور عوامی خدمات کے جذبہ کے ساتھ انتخاب جیتے اور اسے بہتر طور پر حکومت چلانے میں مد کی جائے ۔آپ چاہیں تو کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کی ۴۹ دنوں والی دلی حکومت کی مثال کو رہ نما بنا سکتے ہیں۔کوئی پارٹی یا تنظیم یا کوئی شخص جمہوریت کی ظاہری خصوصیت کے ساتھ عوام کو بہتر انتظامیہ دینے کی کوشش کرے اس کے لئے پوری جد جہد کرے تو سیاست کے مافیا اس کو ہر ممکن طرح سے ناکام کرنے کی کوشش کریں گے ۔ایسا ہی کچھ ملک عزیز میں کیجریوال کے ساتھ ہوا اور ہزاروں میل دور مصر میں ڈاکٹر مرسی کے ساتھ ہوا۔جمہوری نظام میں شہنشاہ بننا بھی کثیر سرمایہ کے بغیر ممکن نہیں اور جو لوگ سرمایہ فراہم کرتے ہیں وہ یہی سرمایہ دار ہیں جن کا نام نامی قومی اور بین الاقوامی شہرت رکھتا ہے ۔ یہ لوگ کسی سیاسی جماعت یا کسی شخص کو الیکشن میں شامل ہونے یا جیت درج کرانے کیلئے جو سرمایہ فراہم کرتے ہیں وہ کسی عوامی مفاد یا مجبور و بیکسوں کی مدد کیلئے نہیں بلکہ وہ سرمایہ اس لئے لگاتے ہیں کہ اس کا منافع ٹیکسوں میں بھاری چھوٹ ،قیمتوں کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی آزادی کے ساتھ انہیں دستیاب ہو ۔یعنی جو کچھ انہوں نے الیکشن میں سرمایہ کاری کی ہے اسے سودچ سمیت وصولیں ۔پھر عوام نے میڈیا کے گمراہ کن مہم کا شکار ہو کر مودی کو منتخب کیا۔اب وہ اس ملک کی سیاہ سفید کے مالک ہیں ۔وہ جو چاہیں کریں کوئی ان کے راستے کو روکنے والا نہیں ۔میڈیا کے ایک بڑے حصے کو ان کے قریبی سرمایہ دار نے خرید لیا ہے ۔ملک کے بڑے بڑے اور بااثر صحافیوں کو بے اثر کیا جاچکا ہے یا خریدا جا چکا ہے ۔اس لئے میڈیا ان کی ناکامی کو کامیابی بناکر پیش کرتا ہے ۔ایک جھوٹ کو باربار پیش کرکے اس کو سچائی کاسند دلوادینا بھی اسی میڈیا کا کام ہے جو ان دنوں مودی جی کے اشاروں پر قربان ہونے میں پہل کرنے اور چاپلوسی کی حد تک تعریف اور صرف تعریف ہی کرتا ہے۔مثال کے طور پر امریکہ سفر کے حالات کو ہی لے لیں مودی بھکت میڈیا اس دورے کو کامیاب ترین دورہ کہنے اور اسے ثابت کرنے میں بڑی سرگرمی دکھا رہا تھا ۔وہ میڈیسن اسکوئر میں مودی کی تقریر سننے والے سینکڑوں لوگوں کی تو بات کررہا تھا لیکن میڈیسن اسکوائر سے چند قدم دور مودی کے خلاف ہو رہے احتجاج کی خبر کو نظر انداز کرگیا ۔یہ صرف ہندوستانی میڈیا تھا جس نے نظر انداز کیا ۔یوروپ اور امریکہ میں اس احتجاج کی خبروں کو لوگوں تک پہنچانے میں وہاں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا اور شاید یہ پہلا موقع ہے جب کسی ہندوستانی وزیر اعظم کے خلاف اس طرح کا احتجاج ہوا ہو اور ہندوستانی ذرائع ابلاغ نے اسے نظر انداز کرکے دنیا کے سامنے اپنی کرکری کرائی ہو۔ مودی وزیر اعظم بننے کے بعد تیزی سے قومی معاملات پر دھیان دینے کی بجائے بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے اور اپنی تقریر کا جادو جگانے میں جٹ گئے ۔ان کے پروردہ میڈیا نے ان کے ہر سفر کو کامیاب ترین اور انہیں کامیاب ترین وزیر اعظم کا خطاب بھی دے ڈالا ۔لیکن بعض حقائق نگاروں نے ان کے کسی بھی دورے کو کامیاب دورہ قرار نہیں دیا ۔وہ خواہ جاپان کا ہو یا امریکہ کا ۔ لیکن میڈیا اور مارکیٹنگ گرو کی حیثیت سے انہوں نے ہندوستانی عوام کو خوب مسحور کیا ۔عوام بھی بے چارے کیا جانیں انہیں جو کچھ بتایا جارہا ہے وہ اس پر ایمان لارہے ہیں ۔لیکن جیسے جیسے انہیں زندگی کے حقائق سے روبرو ہونے کا موقع ملتا ہے مودی کے جادو کی حقیقت کا ادراک ہورہاہے۔میرے خیال میں مودی جی کو بھی یہ احساس ہونے لگا ہے کہ عوام سب کچھ نہیں تو کچھ کچھ ضرور سمجھ رہی ہے ۔اس لئے وہ مہاراشٹر الیکشن میں ہر قیمت پر جیت درج کرانے اور ریاست میں بی جے پی کی حکومت کے قیام کیلئے راج ٹھاکرے کے بقول پی ایم او میں تالا لگا کر مہاراشٹر میں انتخابی ریلیوں کو خطاب کررہے ہیں ۔لیکن کیا مودی اتنی سخت جد و جہد کے بعد بھی مہاراشٹر کی حکومت حاصل کرپانے میں کامیاب ہوپائیں گے۔اگر انہوں نے میڈیا پر سرمایہ کی برسات کرکے اسکے منھ سل دیے ہیں تو عوام کو نعم البدل میڈیا یعنی فیس بک اور ٹوئٹر جیسے ذرائع دستیاب ہیں ان کے جھوٹ اور بلند بانگ دعووں کی قلعی کھل رہی ہے اور آگے بھی ان ہی ذرائع سے عوام تک سچائی پہنچائی جاسکتی ہے۔کسی بھی معاملے میں یک طرفہ کسی کو ذمہ دار نہیں قرار دیا جاسکتا ۔یہاں مودی کی جیت اور بی جے پی کی حکومت کے قیام میں یک طرفہ طور پر مودی اینڈ کمپنی کو ہی ذمہ دار نہیں گردانا جاسکتا ۔عوام بھی اس کے برابر ساجھی دار ہیں ۔مجوجودہ دور میں جسے انفارمیشن ٹکنالوجی کے انقلاب کا دور کہا جارہا ہے۔اس کے تحت خبروں کی ترسیل اور اس پر گرفت ہماری مٹھی میں ہے ۔کیا ہوا جو الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا مودی کے اشاروں پر ہی خبروں کی صورت گری اور اس کی من مانی تشریح کی کوشش کرتا ہے۔اس کا نعم البدل سوشل میڈیا کی صورت میں ہمارے ہاتھوں میں ہے۔جہاں منٹوں اور سیکنڈوں میں خبروں کی ترسیل و تشہیر کا تسلسل جاری رہتا ہے۔اگر ہم اس سے فائدہ نہ اٹھائیں اور گمراہ کرنے والوں کے پروپگنڈوں سے متاثر ہو جائیں تو اس میں ہماری تساہلی بھی ذمہ دار ہے۔کیوں نہ ہم ان نعم البدل میڈیا کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو حقیقت حال تک رسائی وائیں۔اگر ہم ایسانہ کریں اور ملک عزیز پر ایسے لوگ مسلط رہیں جو محض چند جذباتی باتوں سے عوام کو گمراہ کریں تو اس کی راست ذمہ داری ہم پر بھی عائد ہوتی ہے ۔بحیثیت بیدار شہری کے ہمارے فرائض میں شامل ہے کہ عوام کو حقیقت حال سے آگاہ کریں

Leave a Reply