مہاراشٹراسمبلی میں بی جے پی کی کامیابی کے آثار

کیااتحادالمسلمین کے اویسی برادران اسی لئے آئے تھے؟

سمیع احمدقریشی۔ممبئی،مہاراشٹر

ملک میں انتہائی اہمیت وافادیت کی حامل ریاست مہاراشٹرکی ۲۸۸؍سیٹوں والی اسمبلی کے انتخابات ہوگئے۔۱۹؍اکتوبرکونتائج آئیں گے۔ہرطرف گاؤں گاؤں،گلی گلی،محلہ محلہ،نکڑوں پرعوامی سطح پرموضوع بحث ہے۔اب کون کامیاب ہوگا؟کس کی سرکاربنے گی؟اخبارات اورالیکٹرانک میڈیامیں بی جے پی کوسب سے زیادہ کامیابی کی پیشن گوئی کی جارہی ہے۔اسے اکیلے ہی اس قدرانتخابی حلقوں میں کامیاب ملے گی کہ دوسروں کی،سرکاربنانے کیلئے مددکی ضرورت نہ پڑے گی۔بی جے پی کے بعدشیوسینا،راشٹروادی،کانگریس،نونرمان سیناکی یکے بعددیگرے کامیابی کی بات بتلائی جارہی ہے۔سماجوادی اوراویسی برادران کی اتحادالمسلمین کاکہیں بھی دورتک کامیابی کاپتہ ہی نہیں۔

بی جے پی،راشٹریہ سیویم سنگھ کی بغل بچہ پارٹی ہے۔کہاجائے توغلط نہ ہوگاکہ راشٹرسیوم سنگھ ۱۹۲۵؍سے اپنے قیام ہی سے ہندوراشٹریہ کی بات کرتی ہے۔اپنے قیام سے آج تک وہ سماج میں بڑے پیمانے پرگھس آئی ہے۔جن سنگھ پہلے اس کاسیاسی بازوہواکرتی تھی جواب بی جے پی پارٹی کاروپ لے چکی ہے۔پہلے پارلیمنٹ میں بی جے پی کے دوممبران ہواکرتے تھے۔گذشتہ پارلیمانی الیکشن میں اکیلے ہی اس قدرکامیابی ملی کہ وہ مرکزمیں اکیلے ہی بلاشرکت غیرے وہ حکومت بناپائی۔بی جے پی اس آرایس ایس کی ایک طرح سے اولادہے۔جسے سماج وملک میں برہمنوں کی بالادستی کوقائم رکھناہے۔یہ ورن آشرم کومانتی آئی ہے۔ذات پات کے نظام کوقائم رکھناچاہتی ہے۔ہندومسلم اتحاد۔فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہماراہزاروں سال پرانااثاثہ ہے۔ملک میں بہت سی زبانیں،مذاہب،تہذیب کوماننے والے آبادہیں۔یہاں کثرت میں وحدت ہے۔۱۹۵۰؍میں ہمارے ملک کادستوربنا۔دستورکی دفعہ۱۴؍۱۵؍۱۶؍کے تحت ہرشہری کویہاں رہنے کایکساں حق حاصل ہے۔نیزدستورکی دفعہ۲۵؍کے تحت ہرشہری کومذہبی آزادی حاصل ہے۔دستورکی معیاری باتیں،آرایس ایس کوآنکھ میں کھٹکتی ہے۔اسی لئے وہ دستورکونظریات،ہندوستان کی وحدت،سلامتی،ترقی سے ٹکرائے ہوئے ہیں۔اقلیتوں،مسلمانوں،عیسائیوں،پسماندہ طبقات کی ترقی وبقاء کوآرایس ایس سے انتہائی خطرہ ہے۔گوالکر،ساورکر،ہیڈگیوارآرایس ایس کے بانیوں میں رہے۔ان کی لکھی ہوئی کتابیں ہندوستانی عوام میں مذہب،ذات پات کے نام پرزہرگھولتی آئی ہیں۔بجرنگ
دل،وشوہندوپریشدجیسی فرقہ وارانہ جماعتیں آرایس ایس کی گویاشاخیں ہیں۔


کانگریس۔کمیونسٹ پارٹیاں،سماجوای،ڈی ایم کے،اناڈی ایم کے،لالوپرساداورنتیش کمارکی جنتادل پارٹیاں،مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی وغیرہ آرایس ایس کے نظریات سے اتفاق نہیں رکھتیں۔یہ پارٹیاں بین المذاہب دوستی کومانتی ہیں۔ملک کے سبھی شہریوں کوایک جیساسلوک دینے کی باتیں کیاکرتی ہیں۔مگرافسوس ناک پہلوہے کہ سوائے کمیونسٹ پارٹیوں کے اورلالوونتیش کے تقریباً سبھی پارٹیاں خاص طورپرکانگریس،یہاں تک کہ ملائم سنگھ کی سماجوادی بھی آرایس ایس کے نظریات کے ساتھ تہہ دل سے کھلم کھلالوہالیتے نظرنہیں آتیں۔ورنہ بابری مسجدشہیدنہ ہوتی۔برسوں قبل ملیانہ کے فرقہ وارانہ فسادات میں حصہ لینے والے پولس اورشرپسندعناصرکے خلاف کاروائی ہوجاتی یوں مظفرنگریوپی میں یہ فرقہ وارانہ بھیانک فسادات نہ ہوتے۔تمام سیکولرپارٹیاں فرقہ پرستوں کی مخالفت ضرورکرتی ہیں مگراکثروبیشترتہہ دل سے ہندوفرقہ پرستوں کے خلاف محاذآرائی نہیں کرتیں۔انہیں ڈر ہے کہ ہندو ووٹ ان سے دور ہو جائے گا۔ملک کی آزادی کے بعدسے آج تک بے انتہافرقہ وارانہ فسادات ہوتے آئے ہیں۔فسادات کی تحقیقات کیلئے حکومتوں نے تحقیقاتی کمیشن بٹھائے۔جن کے سربراہ عدلیہ کے جج تھے۔ہمارے مہاراشٹرمیں برسوں پہلے جلگاؤں وبھیونڈی کے فسادات پرمادن کمیشن اور۹۲؍کے ممبئی فرقہ وارانہ فسادات پرکرشناکمیشن بٹھائے گئے۔آرایس ایس،بی جے پی،یہاں تک کہ سرکاری مشنری وپولس کے فسادات میں شامل ہونے کے الزامات کمیشن میں لگائے گئے۔مہاراشٹرکی کانگریسی اورراشٹروادی حکومت نے وعدہ کیاکہ خاطی افرادکے خلاف کاروائی ہوگی۔مگرسیکولرازم کی علم بردارکانگریس اورراشٹروادی کانگریس سرکارایسانہ کرسکی۔معصوم وبے گناہ مسلم نوجوانوں کودہشت پسندی کے جھوٹے الزامات میں گذشتہ کئی برسوں سے جیلوں میں بندکیاگیا۔یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔بے گناہ معصوم مسلمانوں کی عدالتوں سے باعزت رہائی بھی ہوئی۔انہیں زندگی کے قیمتی برسوں جیلوں میں اذیت کے ساتھ گزارنے پڑے۔عدالتوں سے باعزت رہائی کے بعدان معصوموں کوعزت بھرپائی،سرکاری سطح پرملناضروری ہے۔وہ آج تک نہ ہوسکا۔جھوٹے الزامات میں مسلمانوں کاانکاؤنٹرکرنے والے پولس افسران کوسرکارترقی دیتی رہی۔تمغوں سے نوازتی ہے۔یعنی تم مسلمانوں کی عزت آبروسے کھیلو،سرکاری انعامات پاؤ۔آج تک کسی بھی خاطی پولس آفیسرکے خلاف سرکاری کاروائی نہیں ہوئی۔اس کے علاوہ راشٹروادی اورکانگریس کی ملی جلی مہاراشٹرکی سرکارنے مسلمانوں کیساتھ انتہائی غیرمعیاری برتاؤکیا۔ریاست میں ہندوتواکی بڑھتی طاقت کوروک نہ سکی۔جب برسہابرس سے ایسی باتیں مسلمانوں کیساتھ ہوگی تویقیناً مسلمانوں کی بے چینی اورسرکارسے ناراضگی کافائدہ اعظم خان،مسعودرانا،شاہی امام اوراویسی برادران کریں گے۔حالیہ مہاراشٹرکے اسمبلی الیکشن میں ممبئی،نانڈیڑ،پربھنی،اورنگ آبادوغیرہ میں حقیقتاً اویسی برادران نے مسلم نوجوانوں کے جذبات سے کھیلا۔مذہبی جذباتی تقاریرنے مسلم نوجوانوں کوبرانگیختہ کردیا۔ان کی تقاریرسے جہاں مسلمان کانگریس اورراشٹروادی سے دورہوئے،توہندوسیکولرووٹ بھی کانگریس اورراشٹروادی کانگریس سے دورہوکربی جے پی وشیوسیناجیسی پارٹی کے حق میں جاتانظرآرہاہے۔مہاراشٹرمیں ۲۰؍سے ۲۵؍اسمبلی حلقوں میں بی جے پی وشیوسیناجیسی پارٹیوں کی کامیابی نظرآرہی ہے۔

مہاراشٹرمیں اسمبلی الیکشن میں بی جے پی وشیوسینا۔کانگریس وراشٹروادی پارٹیوں علیحدہ علیحدہ الیکشن لڑا،یہ وقت تھا۔سنہری موقع کہ متحدہوکرووٹنگ کرتے تاکہ شیوسیناوبی جے پی جیسی پارٹیوں کوہرایاجائے۔ایساہوتامحسوس نہیں ہوتا۔حیدرآبادسے اچانک ممبئی میں واردہوئے اویسی برادران نے سیکولرووٹوں کابکھراؤکردیا۔انہیں توایک بھی سیٹ پرکامیابی ملتی دکھائی نہیں دیتی۔وقت کی ضرورت ہے مسلمانوں کوسیاسی حکمت عملی کی۔ورنہ کوئی بھی ملّت کے تحفظ کے نام پرقوم وملّت کے ہاتھ میں الفاظوں کی تلواررکھاکرے گا۔جذباتی نعرے وتقاریرسے بی جے پی اورشیوسیناجیسی پارٹیوں کوکامیابی ملاکرے گی۔یہ بھی سوچناہے کہ اویسی برادران کویہ کھلواڑکرنے کاجذباتی تقاریرکرنے کاموقع کس نے دیا؟کیاایک سازش کے تحت اویسی برادران کومہاراشٹرالیکشن میں اُتاراگیا،کہ مہاراشٹراسمبلی میں مسلم وغیرمسلم نمائندگی کم ہویاختم ہو۔یقیناً مسعودرانا،شاہی امام،اعظم خان ایک جانب مسلمانوں میں اپنی تقاریرکے ذریعہ اشتعال انگیزی میں ماہرہیں،تودوسری جانب پروین توگڑیا،اشوک سنگھل،یوگی ادیناتھ جیسے لوگ ہندؤں میں اشتعال انگیزی ونفرت کے سوداگرہیں۔ایک فرقہ کی شرپسندی،فرقہ پرستی دوسرے فرقہ کی شرپسندی کاباعث بنتی ہیں۔ہرعمل کاردعمل ہوتاہے۔بدقسمتی سے ممبئی اورمہاراشٹرمیں مسلم اورغیرمسلم سیکولررائے دھندگان نے سنہری موقع گنوادیاکہ فرقہ پرستوں کوہرایاجائے۔اویسی برادران نے اپنے وجودسے ممبئی ومہاراشٹرمیں بے پناہ مسلم ووٹوں کابکھراؤکیا۔جوبی جے پی اورشیوسیناجیسی پارٹیوں کی نمایاں کامیابی کاباعث ہوگا۔

کبھی مسلم ووٹ بادشاہ گر ہوا کرتا تھا گذشتہ پارلیمانی الیکشن میں زبردست ہندو تو وادی ووٹ کی بنا پر یہ بے وقعت ہو گیا۔بے وقت ہوتے مسلم ووٹ کے لئے ضروری تھا کہ اپنے ملی ایجنڈا کے مد نظر سیکولر پارٹیوں سے اتحاد کرنے کی کوشش کرتے ۔کانگریس ،راشٹر وادی کانگریس ،سماج وادی پارٹی اور بڑے پیمانے پر اویسی برادران کی اتحادلمسلمین نے مسلم ووت کی تقسیم کاری ہو گئی ۔ یقیناًیہ بی جے پی اور شیو سینا جیسی فرقہ پرستوں الیکشن میں کامیابی میں مددگار ہوگی ۔مسلم ووٹ کی تقسیم کاری بنا پر یہی ہوتا آیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply