چلو اچھا ہوا سب الگ ہو گئے!

15 سال پہلے شرد پوار نے سونیا گاندھی کے غیر ملکی ہونے کا واویلا کیا اور اپنی الگ پارٹی بنائی ۔اس وقت لوک سبھا ا میں انہیں امید تھی کہ 30 تک ممبران چن کر آجائیں گے اور جوڑ توڑ کی سیاست کے بل بوتے پر اٹل جی سے مرکز میں نائب وزیر اعظم کا عہدہ لیں گے ۔لیکن ایسا نہیں ہوا ۔پھر اقتدار تو چاہئے ہی تھا. مہاراشٹر میں سونیا گاندھی کی کانگریس کی حکومت میں شامل ہو کر اپنی پارٹی کے لیڈران کو وزارت کی مسند پر بٹھایا اور 15 سال تک راج کیا ۔مرکز میں خود وزیر زراعت جیسی غیر اہم وزارت سنبھالتے رہے ۔ادھر پچیس سالوں سے بھاجپا سینا میں گٹھ جوڑ تھا ۔ایک بار مہاراشٹر کا اقتدار بھی سنبھالا اور پھر مسلسل پندرہ سالوں تک حزب اختلاف میں رہے ۔حالیہ لوک سبھا الیکشن میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کامیابی سے ان دو میں سے ہر پارٹی اپنی ہی وجہ سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکی ایساسوچنے لگے اور وزارت اعلیٰ کے دونوں دعویدار ہوئے اور اسی بات پر الائنس ٹوٹا ہے۔جی ہاں کئی سالوں بعد آج یہ بڑی پارٹیاں ہم سے الگ الگ ووٹ مانگیں گی۔ہونا تو یہ چاہئے کہ ملک گیر سطح کی سب سے پرانی پارٹی کانگریس کو ہم ووٹ سے نوازیں اور مہاراشٹر کا اقتدار سونپیں ۔اس سے پہلے مسلم تنظیمیں و مختلف ادارے اپنا چارٹ آف ڈیمانڈ سونیا گاندھی کو سونپیں اور ان سے وعدے کرائیں ۔تاکہ مہاراشٹر پر اب فرقہ پرست و مفاد پرست پارٹیوں کا کوئی لائنس حکومت نہ کرسکے ۔

Leave a Reply