کیاآگ لگائیں گے برفیلی چٹانوں میں-مجلس اتحادالمسلمین کے اویسی برادران کیابھگوابرادروں کی کامیابی کیلئے آئے ہیں؟

سمیع احمدقریشی،ممبئی

فرقہ پرستی چاہے کسی مذہب کی ہو،انتہائی بدترین شۂ ہے۔یہ کینسرجیسی مہلک بیماری سے بدترہے۔یہ ہمارے ملک کی بقاء وترقی کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ملک کے آئین ودستورمیں اس کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ہمارے ملک کامعاشرہ ہزاروں سال سے تکثیریت کاحامی ہے۔ملک کی قومیت میں سبھی مذاہب کے ماننے والے شامل ہیں۔ملک کی دستوری دفعہ۱۴؍۱۵؍۱۶؍کے تحت ملک کے ہرشہری کوملک میں زندہ رہنے کایکساں حق اوردفعہ ۲۵؍کے تحت ہرایک کومذہبی 
آزادی حاصل ہے۔


افسوس ناک پہلوہے کہ ملک کے سیاستداں فرقہ پرستی کے خاتمہ کیلئے سنجیدہ نہیں ہیں۔آزادی کے بعدسے آج تک ملک میں ہزاروں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔بناء امتیازمذہب لاکھوں معصوموں وبے گناہوں کی جانیں گئیں،کتنے ہی یتیم وبے سہاراہوئے،ناقابل شمارجانی ومالی نقصانات ہوئے۔یہ سلسلہ خونی،فرقہ وارانہ فسادات رکتاتھمتاہی نہیں۔معصوموں کی عزت وآبروجان ومال کے ساتھ کھلواڑجاری ہے۔اکثرفرقہ وارانہ فسادات کے بعدتحقیقاتی کمیشن حکومتیں بٹھاتی ہیں۔جس کے سربراہ عدلیہ قانون کے ماہرجج ہوتے ہیں۔تحقیقات کمیشنوں کی رپورٹیں ظاہر کرتی ہے کہ فسادات کروانے میں ہندوفرقہ پرست،آرایس ایس،پہلے جن سنگھ اوراب بی جے پی،بجرنگ دل جیسی جماعتوں کاہاتھ رہاہے۔حکومتوں کوایسی فرقہ پرست پارٹیوں کے خلاف اقدامات،کاروائیاں کرناضروری رہا،مگرآج فسادات کروانے پرکسی بھی فرقہ پرست تنظیم کے خلاف کوئی قانونی کاروائی، خاطرخواہ نہیں کی گئی۔ایسے شرپسند فرقہ پرست عناصر کی یہ ہمت افزائی نہیں تواورکیاہے۔

۱۹۸۴؍میں اندراگاندھی کے قتل کے بعددہلی وملک کے متعددحصوں میں سکھوں کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔بابری مسجدکی شہادت کے بعدممبئی میں۱۹۹۳؍میں بھیانک فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ممبئی کے فسادات پرتحقیقات کیلئے ایک جج سری کرشناکی سربراہی میں سرکاری کمیشن ’’سری کرشناکمیشن بٹھایاگیا۔کمیشن کی رپورٹ میں آرایس ایس،بی جے پی،شیوسیناکے لیڈروں وورکروں کی فرقہ وارانہ فسادات میں شرانگیزی میں ملوث ہونے کی تفصیل ہے۔ان شرپسندوں کے خلاف،متعصب پولس افسران کے خلاف،سرکاری کاروائی کے وعدوں کے برخلاف آج تک کچھ نہیں ہوا۔فرقہ پرست عناصراورخاطی پولس افسران کے خلاف مہاراشٹرحکومت قانونی کاروائی کرتی تویقیناً ۲۰۰۲؍کاگجرات کابھیانک فرقہ وارانہ فساد،مذہب کے نام پرمظفرنگرمیں قتل وغارت گری،انسانی جان ومال کی تباہی اورملک میں متعددفرقہ وارانہ فسادات نہ ہوتے۔سیاست میں فرقہ پرست پارٹیوں کادن بدن بڑھتازورواثر،فرقہ واریت کوبڑھانے میں مددگارہے۔گجرات میں بی جے پی کی حکومت نہ ہوتی توشایدگجرات میں۲۰۰۲؍کافرقہ وارانہ فسادات نہ ہوتے۔

وزیراعلی گجرات مودی سے لیکران کی کابینہ کے متعددوزراء فسادات کروانے میں شامل رہے۔یہ پولس کے اعلی افسران کوشرانگیزی کے احکامات دے رہے تھے وغیرہ وغیرہ۔وزیرامیت شاہ،وزیرکوڈنانی ودیگرپولس کے اعلی افسران کی فسادات میں شرانگیزی جگ ظاہرہے۔گذشتہ پارلیمانی الیکشن میں یوپی میں مظفرنگرکافسادنہ ہواہوتا،توشایدپارلیمانی الیکشن میں یوپی میں بی جے پی کوایسی شاندارکامیابی نہ ملتی۔فرقہ وارانہ فسادات وفرقہ واریت کاغلبہ اورسیلاب،لوگوں میں اچانک نہیں اُبھرکرآتا۔دلوں میں نفرت،کدورت،نااتفاقیاں،مذہبی بنیادوں پردل آزارتقاریراورتحریرکے ذریعہ کی جاتی ہیں۔پروین توگڑیا،اشوک سنگھل،محترمہ وجے راج سندھیا،یوگی ادیناتھ جیسے لوگ ہندوؤں میں گذشتہ پارلیمانی الیکشن میں مسلمانوں کے خلاف دل آزارتقاریرکے ذریعہ بی جے پی کیلئے ہندوووٹوں میں اضافہ کررہے تھے تودوسری جانب مسعودرانا،اعظم خان جیسے مسلم لیڈران غیرمعیاری تقاریرکے ذریعہ بھڑکاؤ،نفرت آمیز،مذہبی تقاریرکیلئے ہندوفرقہ پرست لیڈران کوموقع فراہم کررہے تھے کہ تم بھی ہندؤں کومذہبیت کے نام پربھڑکاؤ،مسعودرانا،اعظم خان جیسے لوگوں نے اپنی غیرمعیاری تقاریرسے پارلیمانی الیکشن میں انسانیت کا،مسلمانوں کاکچھ توبھلاکرتے نظرنہ آئے۔ہاں ان کی غیرمعیاری تقاریرنے یوپی میں بی جے پی کو۸۰؍پارلیمانی سیٹوں میں سے ۷۳؍سیٹوں پرکامیابی دلانے میں آسانی پیداکردی۔کہ یہ ہوازہریلی تقاریرکااثر۔عقلمندوں کوماضی اورحال سے سبق ملتاہے۔؂

نقش گزرے ہوئے لمحوں کے ہیں دل پرکیاکیا

مُڑکے دیکھوں تونظرآتے ہیں منظرکیاکیا

۱۵؍اکتوبرکومہاراشٹرمیں اسمبلی الیکشن ہونے جارہے ہیں۔گذشتہ ۲۵؍سالوں سے مہاراشٹرمیں بی جے پی اورشیوسینامیں سیاسی اتحادرہا۔پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی کونمایاں کامیابی ملی۔ہندوتواکاایک سیلاب ساآگیا۔مہاراشٹرمیں بی جے پی وشیوسیناکے اتحادکوآنے والے اسمبلی الیکشن میں کامیابی ملنی یقینی نظرآرہی تھی،مگرشیوسینااوربی جے پی کاسیاسی اتحادٹوٹ گیا۔جس سے کانگریس اوراین سی پی کے سیاسی اتحادکوجو۱۵؍سال سے قائم ہے اسمبلی الیکشن میں کامیابی کے آثاربڑھ گئے۔بدقسمتی سے یہ اتحادبھی ٹوٹ گیا۔مہاراشٹرکے سیاسی منظروپس منظردیکھکرپتہ نہیں چلتاکہ کس پارٹی کوکتنی کامیابی ملے گی۔کون حکومت بنائے گا۔شیوسینا،بی جے پی،کانگریس،این سی پی،نونرمان سیناکے علاوہ متعددچھوٹی علاقائی سیکولرپارٹیاں بھی الیکشن میں ہیں۔جس میں سماجوادی،اس کے علاوہ اویسی برادران کی مجلس اتحادالمسلمین بھی ہے۔

کبھی ایک وقت تھاکہ پورے ملک میں مسلم ووٹ کی اہمیت تھی۔وہ بادشاہ گرکہلاتے تھے۔پورے ملک میں بڑھتے ہندوتواووٹ نے مسلم ووٹ کی اہمیت کوکم دیا۔کچھ دنوں پہلے پارلیمانی الیکشن کے بعدمتعددصوبوں واسمبلیوں کے ضمنی انتخابات ہوئے،پارلیمانی الیکشن میں جس قدرسیکولرووٹ تقسیم ہوئے،اس قدرضمنی الیکشن میں نہ ہوسکا۔بی جے پی کوزبردست شکست ہوئی۔مہاراشٹرمیں ہندواتواوادی بی جے پی اورشیوسینامیں پھوٹ،مہاراشٹرمیں صوبائی اقتدارسے بھگوابرداروں کی دوری بن سکتی ہے۔کاش کہ مہاراشٹرمیں ۱۵؍فیصدمسلم رائے دھندگان مناسب حکمت عملی اپنائیں۔؂

قوت فکروعمل پہ فناآتی ہے 

پھرکسی قوموں کی شوکت پہ زوال آتاہے

جذباتی سوچ وفکرسے اہم موضوعات پرفیصلے نہیں ہوتے۔مثبت سوچ وفکروعمل ضروری ہے۔صوبائی الیکشن سرپرکھڑے ہیں۔اللہ تعالی انسانیت کی بقاء کی خاطرکوئی مناسب راستہ نکالے گا۔ہم یہی چاہتے ہیں۔یہ شیطان ہی ہے جوبرائی،خرافات،بدعات کواچھائی کے لباس میں انسانوں کے سامنے رکھتاہے۔انسان گہرائیوں کی بناء پرگڑھوں میں گرجاتاہے۔مسعودرانا،اعظم خان جیسے مسلم لیڈران نے

غیرمعیاری تقاریرسے سنگھل،توگڑیا،یوگی ادیناتھ جیسے لوگوں کوبھرپورزہریلی مذہبی منافرت کی تقاریرکاموقع دیا۔جس سے بھگوابرادران کوپارلیمانی الیکشن میں کامیابی ملی۔یقیناً اعظم خان،مسعودرانا،بھی مہاراشٹراسمبلی الیکشن میں انتخابی مہم میں آئیں گے۔حیدرآبادکی مجلس اتحادالمسلمین کے اویسی برادران نے نانڈیڑ،اورنگ آباد،ممبئی میں آمدکاسلسلہ شروع کردیا،ان کی تقاریرکی بناء پرمسلم نوجوانوں میں انہیں پذیرائی مل رہی ہے۔انتخابات آتے رہیں گے جاتے رہیں گے،انسانی اقداروں کاقائم رکھناضروری ہے۔بردباری ،اعتدال کوہاتھ سے جانے نہ دیں۔ووٹوں کے حصول کی خاطر غیرمعیاری حرکات،اوچھی حرکتیں،اپنے آپ کوذلیل ہونے کے مترادف ہے۔یہ سب اگران لوگوں کے ہاتھوں ہو،جودامن اسلام میں پناہ لئے ہوں،جس پرجتناماتم کیاجائے کم ہے۔کہاں توہم پارلیمنٹ واسمبلیوں میں رکنیت کیلئے ووٹ مانگ رہے ہیں جس کی خاطرہم مذہبی منافرت کابازارگرم کئے ہوئے ہیں۔نہ کوئی مثبت ومعیاری حکمت عملی ہے نہ کوئی معیاری طریقہ کارہے۔مہاراشٹرمیں آنے والے الیکشن میں مسلمانوں کومعیاری حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ہرطرف مسلمان مسلمان کی نمائندگی اورمسائل کے تدارک کی خاطر،میٹنگیں،بحث ومباحثہ،نشستیں شروع ہیں۔یہ کہیں اس طرح سے نہ ہوجائے کہ مسلمان مسلمان۔اسلام خطرے میں ہے،کی صدائیں ہندوتواوادیوں کی کامیابی میں بدل جائے۔جیساکہ گذشتہ پارلیمانی الیکشن میں پورے ملک اورخاص طورسے یوپی میں ہوا۔

مسلم لیڈران قوم،جس میں علمائے حضرات بھی شامل ہیں۔چندایک کومستثنیٰ قراردیاجاسکتاہے۔ان کے تعلق سے یہ کہاجائے توغلط نہ ہوگاکہ علماء حضرات تالاب کے پاس بیٹھے ہیں،پیاسے ہیں۔سیاسی وسماجی لیڈران کاحال یہ ہے کہ پانی دیکھاہی نہیں۔ یقیناً اعظم خان،مسعودرانا،اویسی برادران کی تقاریرہندوفرقہ پرستوں کی دل آزارتقاریرکاباعث بنتی ہیں ہمیں ایسے لیڈران قوم سے بچنے کی ضرورت ہے۔؂


ہیں کواکب کچھ نظرآتے ہیں کچھ 

دیتے ہیں دھوکہ بازی گریہ کُھلا

نفس پرستی،خواہش پرستی انسانوں کوکیانہیں کراتی۔ضرورت اورضرورت اس بات کی ہے کہ وسیع ترمفادات کی خاطر،اپنے نفس کی قربانی دیں۔انسانیت،سماجیات کی آڑمیں،خرافات کے سوداگرمیدان عمل میں ہیں۔ان سے گلی گلی،محلہ محلہ مسلمانوں کوہوشیاررہنے کی ضرورت ہے۔؂

ضمیرزرکے ترازومیں تُل رہے ہیں یہاں

کہاں کازہدوتقوی،کہاں کاعلم وہنر

یہ یادرکھیں کے ہرعمل کاردعمل ہوتاہے الیکشن میں جس مثبت سوچ وفکروعمل کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔جس کافائدہ مسلم اورسیکولرکاز کیلئے ہوگا۔ 

Leave a Reply