ہادیہ کی جرأت ایمانی نے عدلیہ کو آئینہ دکھا دیا

ڈاکٹر سلیم خان

اکھیلا اشوکن اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی اور کیرالا کے کوٹایم ضلع میں وائکوم گاوں کے اندر رہتی تھی ۔ اس نے سینٹ لٹل ٹیریسا گرلس اسکول سے میٹرک پاس کیا ۔ اکھیلا اپنے بچپن سے طبیب بننا چاہتی تھی ۔ اپنے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی خاطر اسے ؁۲۰۱۱ میں ۴۰۰ کلومیٹر دورتمل ناڈو کے سیلم میڈیکل کالج جانا پڑا ۔ اکھیلا کی نقلِ مکانی ویسے تو تعلیم کی غرض سے تھی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ ہدایت الٰہی اس کی منتظر ہے۔ کالج میں اکھیلا کا رابطہ مسلم طلباء سے ہوا جہاں وہ مشرف بہ اسلام ہوگئی اور؁۲۰۱۵ میں تبدیلیٔ مذہب کا سرٹیفکٹ بھی حاصل کر لیا۔ ہادیہ کے والد اشوکن نے جنوری ؁۲۰۱۶ میں کیرالہ کی عدالتِ عالیہ سے رجوع کرکے شکایت کی کہ ان کی بیٹی کو بزور طاقت اسلام میں داخل کیا گیا ہے۔ اس دعویٰ کی تردید میں ہادیہ نے حلف نامہ داخل کرکے کہا وہ اسلامی عبادات کے نظم و ضبط اور اپنے کمرے میں رہنے والی طالبہ جاسینا کے بلند اخلاق سے متاثر ہوکر اسلام کی جانب راغب ہوئی ۔ اس نے آن لائن اسلام سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کیا اور ویڈیوز دیکھے ۔ اس کے بعد سوچ سمجھ کر اور برضا و رغبت اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہادیہ کے والد نے اپنی اولین ناکامی کے بعد عدالت میں دوسری شکایت داخل کرکے الزام لگایا کہ ایک مسلم تنظیم ان کی بیٹی کو داعش میں شامل کرنے کے بعد بیرون ملک بھیجنا چاہتی ہے۔ اس مقدمہ کی سماعت کے دوران دسمبر ؁۲۰۱۶ میں ہادیہ نے شافعین جہان سے نکاح کرلیا ۔ کیرالا کی عدالت عالیہ جس نے ہادیہ کے قبولیت اسلام پر اعتراض نہیں کیا تھا حیرت انگیز طور پر اس کا نکاح منسوخ کردیا ۔ اس طرح ایک بالغ دوشیزہ کا نکاح توڑ کر اس کو والدین کے حوالے کردیا ۔ یہ عجیب معاملہ تھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک نشست میں تین طلاق دے کر اس کے میکے روانہ کردے تو عدالت اس کے فیصلے کو نہیں تسلیم کرے گی بلکہ اب تو سزا دینے کے لیے قانون بھی بنایا جارہا ہے لیکن عدالت بلا کوف و خطر یہ کام کرگذرے گی ۔ اس کے ایسا کرنے سے خواتین کی حق تلفی نہیں ہوگی؟ سچ تو یہ ہے کہ وہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس میں بیک وقت بیوی اور شوہر دونوں کی حق تلفی ہوئی تھی۔

ہادیہ کے شوہر شافعین نے اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا ۔سپریم کورٹ نے ۱۶ اگست ؁۲۰۱۷ کو اس مقدمہ کی سماعت کی مگر ہادیہ کو اس کے والدین کی غیر قانونی حراست سے آزاد کرانے کے بجائے این آئی اے کے ذریعہ تفتیش کا حکم دے دیا ۔ قومی سلامتی کے اس ادارے کا کام تو دہشت گردوں سے نمٹنا ہے لیکن اس کو یہ پتہ لگانے پر مامور کیا گیا کہ وہ شافعین پر لگائے جانے والے اوٹ پٹانگ الزامات کی تفتیش کرے ۔ عدالت کو ممکن ہے یہ توقع رہی ہوگی کہ این آئی اے کو ملوث کرنے سے شافعین اور ہادیہ خوف کھا جائیں گے اور ان میں سے کم از کم ایک فریق میدان چھوڑ کر بھاگ جائیگا لیکن یہ حربہ کا میاب نہیں ہوا۔ ہادیہ اور شافعین استقامت و استقلال کی چٹان بنے رہے۔

اس مقدمہ کی اگلی تاریخ ۳۰ اکتوبر طے کی گئی تھی ۔ اس بار عدالت عظمیٰ نے نہ جانے کیا سوچ کر اشوکن کو حکم دے دیا کہ وہ ۲۷ نومبر کو ہادیہ کے ساتھ حاضر ہوں تاکہ لڑکی کا موقف جانا جا سکے اور یہ پتہ لگا یا جا سکے کہ اس نے ایک مسلمان لڑکے سے کیوں اور کن حالات میں شادی کی ہے؟ عدالت نے اس موقع پر کہا تھا چونکہ لڑکی بالغ ہے اس لیے اس کا موقف جاننا ضروری ہے۔لہٰذا عدالت ہادیہ کے بات بھی کھلی عدالت میں سنناچاہتی ہے۔ سماعت کے دوران قومی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے شافعین کو مجرم کے طور پر پیش کرنے پر چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچڈ کی بنچ نے این آئی اے کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کا کوئی قانون کسی لڑکی کوکسی مجرم سے محبت کرنے سے نہیں روک سکتا۔ لڑکی کا صرف بالغ ہونا کافی ہے اور اس کو یہ اجازت حاصل ہے۔

عدالت کے اس دوٹوک موقف سے جو امیدیں وابستہ ہوئی تھیں ان پر ہادیہ کی پیشی کے دن اوس پڑ گئی۔ عدالت عظمیٰ نے براہِ راست ہادیہ سے اس کی گواہی لینے کے بجائے ٹال مٹول کرتے ہوئے این آئی اے کے اعتراضات کی بنیاد پر جرح شروع کردی ۔ اس طرح جس مقدمہ کا فیصلہ تین منٹ میں ہوسکتا تھا وہ تین گھنٹے تک میزان عدالت پر جھولتا رہا۔ اس دن عدالت میں جو کچھ ہوا اس کا شمار عدلیہ کی تاریخ کے حیرت انگیز واقعات ہوگا۔ ہادیہ نے چونکہ ہوائی اڈے پر اپنا عندیہ ظاہر کر دیا تھا اس لیے اشوکن کے وکیل شیام دیوان کا اعتماد ڈگمگا گیا ۔ اس لیے انہوں نے کھلی عدالت میں سماعت کی مخالفت شروع کردی اور یہ کہا اس کا تعلق کیرالا نے اندر پھیلی ہوئی فرقہ واریت سے ہے اور اس کے کھلی عدالت میں چلنے سے غیر معمولی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ شافعین کے وکیل کپل سبل نے فرقہ واریت کے الزام کویکسر مسترد کردیا اور بولے ہادیہ ۹ ماہ سے والدین کی حراست میں ہے۔ اس کا فرقہ پرستی کے پھیلنے سے کیا تعلق ؟ اور اس سے فرقہ واریت کیسے پھیل سکتی ہے؟

این آئی اے کے وکیل منندر سنگھ نے بیجا تلقین ا ور اس کے دوررس اثرات کے پیش نظر وسیع تر سماعت کی درخواست کی جو اس معاملے کو بلاوجہ طول دینے کی ایک گھسی پٹی ترکیب تھی ۔ انہوں نے کہا یہ نفسیاتی معاملہ اغواء کا نتیجہ ہے۔ اس میں فرد کی خودمختاری ملوث ہے۔اس طرح کی تلقین کو فی زمانہ نیورو لنگویسٹک پروگرامنگ (این ایل پی) کہا جاتا ہے۔ این آئی اے کی اس دلیل پر عدالت نے چبھتے ہوئے سوال کیے۔ پہلا سوال کہ کیا اس تلقین کے معاملے کو ہادیہ کی شادی سے الگ کردیا جائے؟ اور دوسرا اہم سوال کہ کس مرحلے میں عدالت ایک فرد کی آزادی واختیار کو معطل کرسکتی ہے؟ جسٹس مشرا نے یہاں تک پوچھ لیا کہ اگر یہ طے بھی ہوجائے کہ کسی فرد کا اقرار خود مختارانہ نہیں ہے تو عدالت کیا کرے؟ ان پیچیدہ سوالات کوئی ٹھوس جواب منندر سنگھ کے پاس نہیں اس لیے انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور کہا ہم نے ۱۰۰ صفحات کی جو رپورٹ پیش کی ہے اس کو پڑھنے کے بعد ہی عدالت کوئی فیصلہ کرے۔
اس موقع پر شافعین کے وکیل کپل سبل نے کہا اگر فریق مخالف کی ساری باتیں درست ہوں تب بھی ہادیہ کو یہ کہنے کا بنیادی حق حاصل ہے ، وہ اعلان کرے کہ سب کچھ اپنی مرضی سے کررہی ہے۔ سبل نے کہا کہ اگر اس کو تلقین بھی کی گئی ہے تب بھی اس کی تصدیق کے لیے ہادیہ سے بات کرنا ضروری ہے ۔ ہادیہ بیان این آئی اے کی رپورٹ سے زیادہ اہم ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے اعتراف کیا کہ ’’میں نے اپنی زندگی میں ایسا مقدمہ نہیں دیکھا‘‘ مشرا جی کا تبصرہ بالکل درست ہے اس لیے کہ کسی مہذب معاشرے میں ایسے بے معنیٰ مقدمہ کا تصور بھی محال ہے۔

کپل سبلّ نے اپنی پیروی کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ این آئی اے کی تحقیق کوئی مقدس دستاویز نہیں ہے۔ کسی کو حراست کے دوران کیسے تلقین کی جاسکتی ہے؟ این آئی اے ویسے بھی ماضی میں اپنے موقف سے مکرتی رہی ہے۔ ہادیہ نے اگر کوئی غلط فیصلہ کیا ہے تب بھی اسے ایسا کرنے کا حق ہے اس لیے کہ ویسے بھی کئی نکاح فسخ ہوجاتے ہیں ۔ کپل سبل نے ہادیہ کی گواہی پر اصرار کرتے ہوے کہا پہلے اس سے بات کیجیے ۔ اگر آپ کے پاس تلقین کا کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو اسے طبی مرکز میں روانہ بھیجیے ورنہ اعلان کیجیے کہ اس نے یہ فیصلہ آزادانہ کیاہے۔ ہادیہ گواہی دینے کے لیے سپریم کورٹ حاضر ہوئی ہے؟

کپل سبل ّ کے یہ ٹھوس دلائل بھی جسٹس چندچڈ کو مطمئن نہ کرسکے انہوں نے کہا’’ ہمیں تلقین کے خطرات کی فکر ہے اور ہم اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے پابند ہیں‘‘ ۔ جسٹس کھانولکر نے کہا عام حالات میں لڑکی کا موقف سن کر فیصلہ کردیتے لیکن یہ غیر معمولی صورتحال ہے۔ کپل سبلّ کے اصرار پر جسٹس چندر چڈ کے منہ سے وہ اندیشہ نکل گیا جس کو وہ اپنے سینے میں چھپائے بیٹھے تھے ۔ انہوں نے کہا اگر ہم نے لڑکی کو شہادت کے لیے بلالیا تو کیا یہ اس بات اعتراف نہیں ہوگا کہ وہ تلقین کے زیر اثر نہیں ہے؟ گویا تلقین کی آڑ میں ہادیہ کے انفرادی حقوق کو سلب کرنے کی تیاری ہوچکی تھی۔ اس کے بعد وہ ایک اسٹاک ہوم سنڈروم والی دور کی کوڑی لے آئے۔ کسی فرد کی اپنے بارے میں آزادانہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت پر بھی انہوں نے سوالیہ نشان لگا دیا؟

اسٹاک ہوم سنڈروم کا معاملہ ہوائی جہاز اغواء کے بعد سامنے آیا تھا جس میں مسافروں کو ایک طویل عرصہ ساتھ رہنے کے بعد اپنے اغواء کاروں سے انسیت ہوگئی تھی۔ یہ عارضی اثرات ایک خاص مدت تک ساتھ رہنے کے سبب ہوتے ہیں ۔ ہادیہ کے معاملے اگر اس کا اطلاق کیا جائے تو چونکہ ۱۱ ماہ سے وہ اپنے ماں باپ کے یہاں قید تھی اس لیے ہادیہ کو والدین کی جانب جھک جانا چاہیے تھا اور شافعین کو اس کی شکایت کرنی چاہیے تھی مگر وہاں صورتحال بالکل برعکس تھی۔ یہاں تو اشوکن سے نفرت اور شافعین سے محبت کا اظہار ہورہا تھا ۔ عدلیہ کی اس آنا کانی سے کپل سبلّ کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا اور انہوں نے سوال کیا کہ اگر عدالت کو یہ طے کرنا تھا کہ ہادیہ کی گواہی لی جائے یا نہیں تو آخر اس کو کیرالا سےدہلی آنےکی زحمت کیوں دی گئی۔ اس موقع پر اندرا جئے سنگھ نے مداخلت کرتے ہوئے ایک ایسا تیکھا سوال پوچھ لیا کہ سب تلملا اٹھے۔ آپ نے پوچھا اگر ہادیہ مرد ہوتی تو کیا اس کی صلاحیت پر اس طرح شک کیا جاتا؟ اس پر چندرچڈ نے کہا عدالت جنسی مساوات پر یقین رکھتی اور مشرا جی نے حیرت سے سوال کیا کہ اس میں جنس کا معاملے کیسے آگیا؟ جب اندرا جئے سنگھ نے ایک سوال کیا تو چیف جسٹس کو سوال کرنے کے بجائے جواب دینا چاہیے تھا۔ اس پر وہاں موجود وکلاء نے عدالت سے کہا ہادیہ ایک بالغ ڈاکٹر ہے۔ اس کی گوہی اگر نہیں لی گئی تو وہ کیا سوچے گی؟ اور وہ جان رہی ہے کہ عدالت میں کیا کچھ ہورہا ہے؟

دوگھنٹے چلنے والی اس طویل بحث کے بعد جس کی چنداں ضرورت نہیں تھی جسٹس چندچڈ نے ہادیہ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنا مختصر تعارف کرانے کے بعد ہادیہ نے عدالت سے برملا کہا۔ میں آزادی چاہتی ہوں ۔ میں گزشتہ ۱۱ ماہ سے غیر قانونی حرا ست میں ہوں ۔ میں ایک اچھا شہری اور ایک اچھی طبیب بن کر رہنا چاہتی ہوں ۔ میں اپنے عقیدے کے ساتھ خلوص کی زندگی گزارنا چاہتی ہوں ۔ عدالت کی جانب سے یقین دہانی کے بعد کہ وہ اپنے عقیدے کے ساتھ ایک اچھے ڈاکٹر کی زندگی گزار سکتی ہیں۔ ہادیہ نے مطالبہ کیا کہ میں اپنے خاوند کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ۔عدالت نے اس پر کوئی یقین دہانی یا تبصرہ کرنے کے بجائے ہادیہ کا کالج میں داخلہ بحال کردیا اور انتظامیہ کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔

ان تمام وضاحتوں کے بعد عدالت نے پوچھا کیا وہ کسی کو اپنا سرپرست منتخب کرنا چاہتی ہیں؟ اس پر ہادیہ بولی میرا شوہر ہی میرا سرپرست ہے اور مجھے کوئی اور سرپرست نہیں چاہیے۔ جسٹس چندر چڈ نے ہادیہ کے جواب پر اعتراض کرتے ہوئے کہا بیوی کوئی مال متاع نہیں ہے اس لیے شوہر اس کا سرپرست نہیں ہوسکتا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا بالغ بیٹی مال متاع ہے جو باپ اس کا سرپرست ہو؟ اور نہیں تو عدالت نے یہ سوال ہی کیوں کیا؟ جب سارے حربے ناکام ہوگئے تو عدالت نےایک اور غیر متعلق سوال کیا جس کا نفسِ مسئلہ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ سوال یہ تھا کہ کیا وہ سرکاری خرچ پر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا چاہتی ہے؟ لیکن اس پر بھی عدالت پھنس گئی اس لیے کہ ہادیہ نے جواب دیا جب میرا شوہر میری تعلیم کا خرچ اٹھا سکتا ہے تو میں سرکار کے آگے کیوں ہاتھ پساروں؟ اس طرح گویا ہر سوال پر عدلیہ گھرتی چلی گئی اور اپنے والدین کے ظالمانہ چنگل سے ہادیہ آزاد ہوگئی ۔ ویسے ہادیہ کا کہنا ہے کہ اسے مکمل آزادی نہیں ملی ہے لیکن ایک کالج کی طالبہ کو اپنے شوہر سے دنیا کی کوئی طاقت دور نہیں کرسکتی ۔ وقت کے ساتھ اس معاملے پر گرد پڑ جائیگی ۔ اس کی تعلیم مکمل ہوجائیگی اور وہ شافعین کے ساتھ خوشگوار زندگی گزارے گی۔ ( ان شاء اللہ)

ہادیہ شافعین کی بابت عدلیہ کے رویہ لوگ ہندو احیاء پرستوں کے اثرات سے تعبیر کرتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں ہے۔ اس کی وجہ ابن الوقتی بھی ہوسکتی ہے۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ اپنے سیاسی آقاوں کی ناراضگی سے بچنے کے لیے فی الحال وہ جس تذبذب کا شکار ہوگئی ہے اقتدار میں تبدیلی کے بعد کیفیت پھربدل جائے۔ ہادیہ کے معاملے قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کی رپورٹ حکومت کے موقف کی ترجمان تھی۔ این آئی اے نے اپنی تفتیش میں یہ اعتراف تو کیا تھا کہ ہادیہ نے بغیر کسی دباو کے اسلام قبول کیا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہےکہ کیرالہ میں ایک منظم گروہ خواتین کی (بیجا) تلقین کرکےانہیں انتہا پسند بنا رہا ہے۔ اس طرح کے ۸۹ مقدمات کیرالا میں درج ہیں ۔ این آئی اے نے سفارش کی تھی چونکہ ہادیہ کو بھی انتہا پسندی کے جال میں پھنسایا گیا ہے اس لیے ہادیہ کے بالغ ہونے کے باوجود اسے والدین کی سرپرستی میں دیا جائے۔ ہادیہ کے والد بھی اسی خیال کے حامل ہیں کہ ان کی بیٹی کو بیجا تلقین کے ذریعہ داعش میں شامل کرنے کی خاطر انتہاپسند بنا دیا گیا ہے اس لیے ہادیہ کی گواہی قابل اعتبار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت میں موجود ہونے کے باوجود ان بے بنیاد الزامات کی بناء پر عدالتِ عظمیٰ میں کئی گھنٹے ایک ایسی بحث کی جسے پڑھ کراس کی حماقت پر ہنسی آتی ہے اور حالت زار پر رونا بھی آتا ہے۔

راج ٹھاکرے نے ایک بار کہا تھا کسی کو زور سے پٹخنا ہوتو اوپر اٹھانا پڑتا ہے۔ ہادیہ کے معاملے میں اگر کیرالا کی عدالت ایک احمقانہ فیصلہ نہیں دیتی تو کسی کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا لیکن مشیت ان ہندوتواوادیوں کو کیرالا سے اٹھا کر دہلی لے گئی اور وہاں سے بحیرہ ہند میں اس طرح پھینکا کہ وہ ساری دنیا کے لیے سامانِ عبرت بن گئے۔ یہی حرکت فرعون نے کی تھی ۔ حضرت موسیٰ ؑ تو فرمانِ خداوندی کی تعمیل میں فرعن کے دربار میں پہنچ گئے اور اس کے سامنے دعوت الی اللہ پیش کردی ۔ فرعون اس کو قبول یا رد کرسکتا تھا لیکن اس نے حجرت موسیٰ کے معجزات کوجادو قرار دے کر جھٹلایا اور انہیں رسوا کرنے کی خاطر اپنی محنت سے جادوگروں کا ایک بہت بڑا اجتماع منعقد کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جادو گروں نے سب کے سامنے موسیٰ ؑ کی دعوت قبول کرکے فرعون کا سحر توڑ دیا اور سارے لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچ گئی۔ مخالفین اسلام یہ نہیں جانتے کہ اس کا محافط و معاون اللہ تعالیٰ ہے؟ ہادیہ نے ہندوستانی عوام کو اسلام کو سمجھنے کا ایک نادر موقع عطا کیا ہے، بشرطیکہ لوگ اپنے کان اور آنکھ پر پڑے عصبیت کے پردے ہٹا کر اس دین رحمت کو دیکھیں اور اس حلاوت کو محسوس کریں جس کا مزہ ہادیہ نے چکھ لیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply