یہ یوم انتخاب نہیں،یوم انتقام ہے،بھگوابرداروں کوہراناضروری!

سمیع احمدقریشی،ممبئی
آج کے زمانہ میں کسی حکومت اورنظام کوچلانے کیلئے،جمہوریت انتہائی اہم ہے۔جمہوریت کی بنیاداوراساس پرکوئی بھی نظام اورحکومت کومعیاری کہاجاتاہے۔جمہوریت میں عوام کی حکومت،عوام کیلئے،عوام کے ذریعے ہواکرتی ہے۔حکومت کوہم اپنے ووٹ اوررائے سے منتخب کرتے ہیں۔مہاراشٹراسمبلی انتخابات عنقریب ۱۵؍اکتوبرکوہونے ہیں۔ووٹ انتہائی اہمیت وافادیت کاحامل ہواکرتاہے۔انتہائی سوجھ بوجھ اورتمام سطحی نوعیت کی،غیراہم باتوں کونظراندازکرکے اس کااستعمال کرناضروری ہے۔مہاراشٹرمیں ۱۵؍فیصدمسلم رائے دھندگان ہیں۔مسلم ووٹ کبھی انتہائی اہمیت کے حامل ہواکرتے تھے۔یہ بادشاہ گرکہلاتے تھے،مگر آج زبردست ہندوتواوادی ووٹوں میں اضافہ کی بناء پریہ کسی بھی پارٹی کیلئے غیراہم ہوکررہ گئے ہیں۔مگرآج مہاراشٹراسمبلی کے انتخاب کے موقع پربدلے ہوئے سیاسی منظر،پس منظرکی بناء پر ووٹوں کے معیاری استعمال کی بنا پرمسلم رائے دہندگان کی اہمیت وافادیت بڑھ سکتی ہے۔ایسے وقتوں میں جب پورے ملک میں گویاہندوتواکی لاٹ ہے۔جیساکہ گذشتہ پارلیمانی الیکشن کے نتائج بھی ظاہرکرتے ہیں۔جب مہاراشٹرمیں ہندوتواوادی شیوسینااوربی جے پی نے ملکر الیکشن لڑا۔بہت بڑے پیمانے پران کوکامیابی اورکانگریس واین سی پی کوشکست بُری طرح سے ہوئی۔آج شیوسینااوربی جے پی مہاراشٹراسمبلی کاالیکشن الگ الگ لڑرہے ہیں۔اسی طرح صاف طورپرہندوتواووٹ میں تقسیم وبکھراؤنظرآرہاہے۔وہی دوسری طرف کانگریس اوراین سی پی میں اتحادٹوٹ چکاہے۔وہ بھی الگ الگ الیکشن لڑرہے ہیں۔مجلس اتحادالمسلمین اور سماج وادی پارٹی بھی الیکشن لڑ رہی ہے۔ سیکولرووٹوں میں بھی تقسیم نظرآرہی ہے۔الیکشن میں کون سی پارٹی کوکس قدرکامیابی ملے گی،کون حکومت بنائے گا۔یقینی طورپرکہانہیں جاسکتا۔یہ سنہری موقع ہے کہ مسلمان اپنے ووٹوں کی اہمیت وافادیت جانتے ہوئے،اس کامعیاری استعمال بڑے پیمانے پرکریں۔ووٹ انتہائی اہمیت کاحامل ہواکرتاہے۔

یہاں یہ بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ خاطرخواہ مسلم رائے دہندگان والے پارلیمانی واسمبلی کے حلقوں میں شرپسنداورفرقہ پرست پارٹی کے امیدوارکامیاب ہوتے ہیں۔مسلم اورسیکولرامیدواروں کی ہارہوتی ہے۔اس بناء پرقانون سازاداروں میں مسلم اورسیکولرممبران کی کمی ہوتی جارہی ہے۔گذشتہ پارلیمانی الیکشن کے نتائج ہی کولے لیجئے۔یوپی میں کوئی بھی مسلم امیدوارکامیاب نہ ہوپایا۔ہندوتواکازبردست سیلاب،سیکولرووٹوں کی تقسیم اصل سبب بنا۔مایاوتی کی پارٹی،ملائم کی سماجوادی،کانگریس متعددمسلم پارٹیاں الیکشن لڑرہی تھیں۔بجرنگ دل،وشوہندوپریشد،آرایس ایس سبھی ملکر بی جے پی کیلئے لڑرہے تھے۔اگرسیکولرپارٹیوں اورمسلمانوں میں اتحادہوتاتویقینی طورپر۸۰؍پارلیمانی سیٹوں میں سے ۷۳؍سیٹوں پربی جے پی واسکی حلیف پارٹیاں نہ جیت پاتیں۔پارلیمانی الیکشن کے کچھ مہینوں بعدخاص طورپربہار،یوپی کی اسمبلیوں کے ضمنی الیکشن ہوئے۔نتیش کماراورلالوپرسادنے ملکرالیکشن لڑا۔یوپی میں خاطرخواہ سیاسی اثررکھنے والی مایاوتی نے الیکشن نہیں لڑا۔یوں سیکولرووٹوں کی تقسیم بڑے پیمانے پرنہ ہوسکی۔انتشارنہ ہوا۔یوں ضمنی الیکشن میں بی جے پی کوکراری شکست ہوئی۔مہاراشٹراسمبلی الیکشن میں مسلمانوں کواسے دہراناہے۔

ووٹ دیتے ہوئے سستی وکاہلی،غیرمعیاری امیدواروں کوووٹ دینا،مسلم ووٹوں کابکھراؤ،فرقہ پرستوں کی کامیابی کاسبب بنتاہے۔ووٹ کی اہمیت چونکہ بے پناہ ہے۔ایک ووٹ کے غلط استعمال سے غیرمعیاری افرادکامیاب ہوتے ہیں۔ایسے افرادملک اورصوبوں کیلئے کیامعیاری قانون بنائیں گے؟ایسے غیرمعیاری افراداورپارٹیاں ملک اورصوبوں کیلئے تنزلی کاباعث ہوتی ہیں۔سیاسی حکمرانوں میں بڑھتی فرقہ پرستی،بدعنوانیاں،رشوت خوری کس قدرہیں یہ کس کانقصان عظیم ہے۔ایسے غیرمعیاری افراداورپارٹیوں کوقانون سازاداروں میں کس نے بھیجا؟یایہ یوں ہی کامیاب ہوئے اس کے ذمہ دارانہیں ووٹ دینے والے عوام ہی ہیں۔غیرمعیاری ایم پی،ایم ایل اے،کارپوریٹرکی بناء پرنقصانات ،تباہی وبربادی ہوتی ہے۔دانستہ طورپرجوعوام غیرمعیاری افرادکوالیکشن میں کامیاب بناتے ہیں،ان کے خلاف بھی کاروائی ہوناضروری ہے۔مگرآج ایساکوئی قانون نہیں ہے۔مسلمانوں کواس تعلق سے سوچناچاہئے کہ اچھااورمعیاری کام کرنے کیلئے دنیامیں کوئی قانون نہ ہو،مگراپنے اعمال کی جواب دہی،ہرگزاللہ کے سامنے ہے۔مسلمانوں میں ایسے رائبران قوم کی کمی نہیں جومذہب کے نام پرووٹ مانگتے ہیں۔حصول ووٹ کیلئے،دل آزارتقاریرسے بازنہیں آتے۔کیاوہ نہیں جانتے ہرعمل کاردعمل بھی ہواکرتاہے۔مسعودرانا،اعظم خان،شاہی امام،اویسی برادران جیسے لیڈران اپنی دل آزار،اشتعال انگیزتقاریرکی بناء پرمسلمانوں کونقصان زیادہ سے زیادہ پہنچارہے ہیں۔ان کی تقاریریوگی،ساکشی مہاراج،توگڑیا،سنگھل جیسے فرقہ پرستوں کوموقع دیتی ہیں کہ وہ ہندوووٹ زیادہ سے زیادہ بی جے پی وشیوسیناکی طرف جمع کریں۔سیکولرہندوووٹ بھی گمراہ ہوجاتاہے یوں مسلم امیدوارایک بھی کامیاب نہیں ہوتا۔بھگواپارٹی کے بے شمارامیدوارکامیاب ہوتے ہیں۔جیساکہ گذشتہ پارلیمانی الیکشن میں خاص طورپریوپی میں ہوا۔پورے ملک میں یہی حال رہا۔الیکشن کاموقع ہے 
مسلمانوں میں قوم وملّت کے نام پر ووٹ مانگنے والے بے شمارنظرآرہے ہیں۔وہ دراصل مسلم ووٹوں کی تقسیم کاری کاکام کررہے ہیں۔ 

؂ نقش گزرے ہوئے لمحوں کے ہیں دل پرکیاکیا

مڑکے دیکھوں تونظرآتے ہیں منظرکیاکیا

یقینی طورپرمہاراشٹراسمبلی الیکشن کے دوران سیاسی منظرپس منظردیکھنے پریہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ شیوسینا،بی جے پی جیسی پارٹیوں کوشکست دینے کیلئے کسی بھی مضبوط سیکولرمسلم یاغیرمسلم امیدوارکوووٹ دیاجائے۔کانگریس،این سی پی،اتحادالمسلمین،سماجوادی میں تقسیم ہوتامسلم اورسیکولرووٹ بھگواپارٹیوں کی کامیابی کاباعث نہ ہو،اسے دیکھناضروری ہے۔ووٹ پانچ سال میں ایک باردیاجاتاہے،باربارنہیں۔اس کے استعمال میں سنجیدگی،بردباری ضروری ہے۔سیاست میں اگربڑی بری پارٹیوں کے بجائے کم بری پارٹی کو ووٹ دیا جائے توکیاہرج ہے۔یہ دائمی طورپرنہیں بلکہ عارضی طورپرہے۔جب تک کوئی مستقل راستہ نکل نہیں آتا۔

Leave a Reply