بے ضمیر سکریٹری جنرل اور بے حس اقوام متحدہ

جمعرات ۱۶۔اکتوبر کی صبح اخبارات دیکھ رہے تھے توایک اخبار کی ایک سرخی نے ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ لی ۔سرخی تھی ’’غزہ میں اسکول پر بمباری کی تحقیقات کرائی جائے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا مطالبہ‘‘
علامہ اقبال نے غالباً سو سال پہلے کہا تھا ۔تھا جو نا خوب بتدریج وہی خوب ہوا۔کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔مگر قوموں کے ضمیر سے پہلے افراد کا ضمیر بدلتا ہے ۔افراد کا ضمیر نہ بدلے تو قوموں کا ضمیر بھی نہ بدلے گا۔
ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے یہ دیکھا ہے کہ اقوام متحدہ کا سیکریٹری جنرل دنیا کے بے شرم وبے غیرت ترین فرد کو چھانٹ کر بنایا جاتا ہے ۔جب تک یہ گارنٹی نہ ہو کہ وہ دنیا کی بڑی طاقتوں کے اشارے پر بلا جھجھک ناچے گا کوئی فرد اقوام متحدہ کا جنرل سیکریٹری نہیں بن سکتا۔اس پس منظر کے ساتھ بان کی مون کے مطالبے کو پڑھ کر افسوس تو ہوا حیرت نہیں ہوئی۔
بان کی مون دنیا کے سب سے بڑے اور بظاہر دنیا کے سب سے طاقتور ادارے کے سربراہ ہیں۔جس بات کا مطالبہ وہ کر رہے ہیں ان کا کام تو خود ہی تحقیقات کرواکر نتائج دنیا کے سامنے پیش کردینا ہے اور پھر خاطی کو سزا دلوانے کی بھی کوشش کرنا۔مگروہ ایسا نہیں کریں گے ۔ برسوں سے فلسطینیوں کے علاقوں پر اسرائیل کی ناجائز تعمیرات جاری ہیں اور اب تک عملاً انھوں نے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔بس کبھی کبھی مذمت کردی کبھی ’’نا قابل قبول‘‘ کہہ دیا اور فرض ادا ہو گیا۔یہ بے شرمی اور بے غیرتی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے کہ انھیں اقوام متحدہ جیسے ادارے کی ساکھ کا بھی پاس و لحاظ نہیں۔ان گنت مبصرین اسے مردہ کہتے اور لکھتے رہتے ہیں۔کچھ اسے بڑی طاقتوں کی لونڈی قرار دیتے ہیں۔یہ حرام خوری ہی ہے کہ آدمی محض موٹی تنخواہ پانے کے لئے اس سے چمٹا رہے اور کرے کچھ نہیں۔آج اکیسویں صدی میں تمام ہی اقوام اس برائی میں لت پت ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ممتاز میر07697376137

Leave a Reply