ہر یانوی لڑکوں کے لئے بہاری دلہن- منفی ذہنیّت کا نتیجہ

ایس- جی – حق

ہر یانوی لڑکوں کے لئے بہاری دلہن جیسے  ہریانہ بی جے پی لیڈر او پی دھنکرکےغیر ذمہ  دارانہ اور   متنازعہ بیان  کے بعد  بہار  کے سیاسی اسٹیج پر ایک بار پھر ہل چل مچ گئی  ہے،  اس غیر ذ مہ دارانہ اور   متنازعہ بیان پر ریاست بہار میں شدید ردّ عمل دیکھنے کو ملا- جہاں ایک طرف بہار قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں میں اس کی گونج سنائی دی وہیں دوسری طرف صوبائی نسواں کمیشن نے دھنکر  کو  اخباری رپورٹ کہ بناءپر  از خود کارروائی کرتے ہوئے قانونی  نوٹس جاری کر دیا ہے، بات دار اصل یہ ہے کےدھنکرنے  ہریانہ میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر پارٹی کار کنان کو مخطاب کرتے ہوئےگزشتہ سنیچر کو  کہا تھا کہ اگر صوبائی انتخابات  میں بھارتیہ جنتا پارٹی بر  سر اقتدار ہوتی ہے تو میں ہریانوی لڑکوں کی شادی کو یقینی بناونگا اور اسکے لئے میں بہار سے دلہن لاونگا ، انہوں نے یہ بھی کہا کی بہار کےاپوزیشن لیڈر  سشیل کمار مودی انکےدوست ہیں اور اس کام میں وہ انکا تعاون   کرینگے-

اس بیان کو بہار کی خواتین کے لئے بہت تذ لیلانہ، ہتک عزت وذ لّت  آ میزقرار دیتے ہوئے بہار میں حزب اختلاف   بی جے پی  کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں دھنکر  کی مخالفت میں صف آرا نظر آئیں اور  ایک سُر میں دھنکر کے خلاف قانونی کارروائی کرنے ا ور  بہار میں مودی کو  اپوزیشن لیڈر کے منصب سے  استعفی دینے کی مانگ کرتی  نظر آئیں –

اس میں تو کوئی دو رائے ہو ہی نہیں سکتی ہے کے دھنکر کا یہ بیان نہ صرف  بہار کی بیٹیوں کی عزت نفس پر ایک شدید حملہ ہے بلکہ  قابل مذ مّت بھی  ہے   لیکن دھنکر کے اس بچکا  نے بیان نے کئ سوال کھرے کر دۓ ہیں،اول تو یہ کہ دھنکر بھارتیہ جنتا پارٹی کسان سیل کے قومی صدر ہیں اور قومی صدر جیسے عہدے  پرفائز ہونے والے شخص کو   ذ مہ دار،فعال  اور قومی سمجھ بوجھ رکھنے والا ہونا  چاہیے-  کیا بھارتیہ جنتا پارٹی میں اچّھے اور سمجھدار لوگوں کی کمی ہے-   یہ بھی ایک اہم سوال ہو سکتا ہے کہ   بہار کی ہی بیٹیاں کیوں پنجاب، گجرات یا دہلی کی کیوں نہیں، تو اسکا جواب یہ ہے کہ  بہار میں غریبی ہے اور بہار سے ماضی میں لڑکیاں ہریانہ لائی جاتی رہی ہیں، تو پھر آخر اس غریب صوبہ سے ہریانہ جیسے معاشی طور پر مضبوط ریاست میں باہر سے لڑکیاں کیوں لائی جاتی ہیں،وجہ صاف ہے  کہ ٢٠١١ کی  مردم شماری کے مطابق ہریانہ میں جنسی تناسب سب سے کم ہے،  صوبہ میں ١٠٠٠ مردوں پر  ٨٧٩ عورتیں ہیں، نتیجتاً ہریانہ میں لڑکیوں کی کمی ہے   اور لڑکے بغیر شادی کے رہ جاتے ہیں  -اتنا  ہی نہیں ملک کے دوسرے معاشی و تعلیمی طور پر مضبوط ریاستوں میں جنسی تناسب بہار جیسے معاشی طور پر کمزور ریاست کے مقابلے بہت ہی خراب ہے. یعنی مادا برانن قتل(female foeticide) کے معاملات ترقی یافتہ   اورمضبوط ریاستوں میں زیادہ ہوتے ہیں، بہار میں غریبی ہے اور اس غریبی میں بھی انسانیت زندہ ہے- جنم لینے سے پہلے اپنے ہی اولادوں کا خون اس بنیاد پر کرنا کہ بیٹی زحمت دیگی امیر،خوشحال اور تعلیم یافتہ لوگوں کا شیوہ معلوم ہوتا ہے  – اسی لئے آج ترقی  یافتہ ریاستوں میں حیوانیت   کا ثبوت مادا برانن قتل(female foeticide) کی شکل میں ہمارے سامنے ہے اور اس غیر انسانی حرکت کا یہ نتیجہ کے ہریانہ میں لڑکوں کی شادی یا یوں کہیں کہ لڑکیوں کی کمی ایک انتخابی مدّہ بن کر سامنے  آ یا ہے- ملک میں آج بھی مادہ برنن قتل ہنوز جاری ہے- یہ معاملہ ملک کے لئے ایک سبق ہے-

اب ایک اہم سوال اور یہ پیدا ہوتا ہے کے کانگریس متمل حکمران جنتا دل یونائیٹڈ و لالو یادو کی راشٹریہ جنتا دل نے اس معاملے کو بہت پر زور ڈھنگ سے اٹھایا ہے- غور طلب ہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں جب بہار  کو  خفّت اٹھانی پر ی ہو، کبھی بہاری نوجوانوں کی دوسری ریاستوں میں پٹائی ہوتی ہے تو کبھی ایک بہاری سو بیماری جیسے القاب سے بہاریوں کی عزت افزائی کی جاتی ہے – آخر بہار کی اس حالت کا ذمہ دار کون ہے- گنتی کے چند سالوں کو چھوڑ دیں تو  آزادی سے لیکر ابتک   کانگریس نے مرکز سے لیکر ریاست میں  حکومت     کی ہے، یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ بہار کے پاس ایک مضبوط base رہا ہے- ملک کی  ایک ہزار سال کی تواریخ اکیلے بہار کی تواریخ رہی ہے – بہار کے پاس  قدرتی وسائل کا خزانہ رہا ہے- بہار کی دولت سےکئی ترقی یافتہ ممالک مستفید ہوتے رہے اوربہار  غریبی کی دلدل میں پھنستا رہا، ایک زمانہ وہ بھی تھا جب سول سروسیز میں بہار کاڈر کو بری ہی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور بہار ٹاپرس کی پسند ہوا کرتا تھا- اور ایک دن ایسا بھی آیا کہ بہار کاڈر کے  اچّھے IAS و IPS  افسرآن  اپنا وقت  ریاست سے باہر گزارنا پسند کرنے لگے- آخر کیا ہو گیا بہار کو، کس کی نظر بد لگی – بہار کی اس بدحالی کے لئے کون زمہ  دار ہے-  سوال تو کءی ہیں لیکن ایک اہم سوال یہ کہ دھنکر کے اس متنازعہ بیان سے لگے زخم پر مرہم لگانا تو دور، بی جے پی اعلی لیڈران کی طرف سے برتی گئی خاموشی بھی اپنے آپ میں ایک سوال بن کر رہ گیا ہے  ،


دھنکر کی زبان سے نکلے مذموم الفاظ  نے بلکل واضح کر دیا ہے کے آج ملک کی لا ڈ لی بیٹیاں بھارت کی نہیں بلکہ بہار  ،آسام،بنگال،شمال مشرق،راجستھان  وغیرہ کی بیٹیاں سمجھی جاتی  ہیں، اس طرح کے منفی ذہنیت  کے حامل لیڈران ملک کی یکجہتی و سالمیت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں.غور طلب ہے کے مرکز میں بیٹھے  حکمران خود کو راشٹروادی بتاتے نہیں تھکتے لیکن انکے نیتاؤں کی سوچ کتنی گھٹیا اور سطحی ہے کہ اپنا مطلب پورا کرنے کے لئے اپنے ہی ملک کی معصوم بیٹیوں اور بہنوں کو  بھی نشانہ بنانے سے نہیں باز آتے -اسکے علاوہ  انتخابات میں اپنی                کامیابی کو یقینی  بنانے کی غرض لئے ہمارے سیاست دان کس حد تک گر  سکتے ہیں اسکا ایک چھوٹا سا نمونہ دھنکر نے پیش کیا ہے

Leave a Reply