مہاراشٹر اسمبلی انتخابات -نئی سیاسی صف بندیوں میں مسلمانوں کا رول!

نہال صغیر،ممبئی



مہاراشٹر اسمبلی انتخاب کا شور اور قیاس آرائیوں کا زور نتائج کے اعلان کے ساتھ تھم گیا ہے ۔اسی کے ساتھ مہاراشٹر میں مسلم سیاست کی ختم ہوتی نمائندگی کو مجلس
 اتحاد المسلمین کی جیت نے نئے باب فراہم کئے ہیں ۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مہاراشٹر کی سیاست میں مجلس کی یہ دوسری دستک ہے ۔ اس کی پہلی دستک لوکل باڈی میں ناندیڑ کے کارپوریشن میں اپنی بھرپور جیت تھی ۔مہاراشٹر کی بد قسمتی یہ رہی ہے کہ یہاں سے مسلم نمائندگی کا انحطاط مسلسل ہوتا رہا ۔یوں تو پورے ملک کا ہی حال اس معاملے میں برا ہے ۔لیکن مہاراشٹر مسلم پسماندگی اور ان کے ساتھ برتے جانے والے تعصبات میں اول ہے ۔ویسے مہاراشٹر کو کئی معاملے میں اول پوزیشن حاصل ہے۔کسی شاعر کا کہنا ہے کہ بد نام ہوں گے تو کیانام نہ ہوگا۔مہاراشٹر ہی وہ ریاست ہے جہاں مسلم نوجوانوں کا انکاؤنٹر اور آبادی سے زیادہ جیلوں میں ان کی تعداد ہے۔کہیں تو مسلمانوں کو ریزرویشن ملاہے۔لیکن پھر بھی کانگریس اور این سی پی جس کی حکومت پچھلے پندرہ سال ہے وہ سیکولر ہے ۔بی جے پی اگر گجرات قتل عام 2002 کیلئے ملزم ہے تو کانگریس کو ساٹھ ہزار سے زیادہ فساد سمیت مہاراشٹر 1992-93 فسادات کے لئے مجرم کیوں نہ گردانا جائے ۔ویسے تو کانگریس کے گناہوں کے دھبے اس کے سفید کھادی کے کرتوں پر اتنے زیادہ ہیں کہ اس میں مزید دھبوں کی گنجائش ہی نہیں ہے ۔لیکن جس طرح نشیلی چیزوں سے انسان ظاہری سرور حاصل کرتا ہے لیکن اس کے نقصانات کو نظر انداز کردیتا ہے کیوں کہ اسے بس نشے کی ہی طلب ہوتی ہے اس کے علاوہ اسے اور کچھ نظر نہیں آتا ۔ٹھیک اسی طرح مسلمان اور ان کے قائدین اور ان کی تنظیمیں بھی کانگریس کے نشے میں سرور و لذت میں مگن ہیں انہیں اس کی ہلاکت خیزی نظر ہی نہیںآتی یا اسے دیکھنا ہی نہیں چاہتے ۔ انشاء اللہ مجلس کی آمد مہاراشٹر کے مسلمانوں کو نئی سیاسی صف بندیوں میں مددگار ہوگا ۔
مسلمانوں کا بھی عام ذہن ایسا بن گیا ہے کہ پتہ نہیں کانگریس کی مخالفت کریں گے تو بی جے پی کو فائدہ ہوگا اور بی جے پی کی حکومت بنتے ہی مسلمانوں کا قتل عام ہو جائے گا ۔اسلام نظر زنداں کردیا جائے گا ۔قیامت آجائے گی ۔حالانکہ کانگریس نے پچھلے 67 سال میں مسلمانوں کو وہ نقصان پہنچایا ہے جس کا بی جے پی تصور بھی نہیں کر سکتی ۔اس کے ثبوت میں کانگریس کی حکومت نے جسٹس سچر کی رپورٹ کے طور بی جے پی آر ایس ایس کو آئینہ دکھایا کہ تم کیا مجھ پر مسلمانوں کی منھ بھرائی(تشٹی کرن) کا الزام لگاتے ہو ہم نے جتنا برا حال مسلمانوں کا کیا تم اس کا پاسنگ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔لیکن مسلمانوں اور اس کے قائدین اس کو کانگریس حکومت کا اخلاص سمجھتے ہیں۔بی جے پی کو محض ایک گجرات مسلم کش فسادات ہی اتنا مہنگا پڑرہا ہے کہ ابھی تک اس کے لیڈر مودی جو اب اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے ہیں اس الزام سے ہزار کوششوں کے جس میں میڈیا کی مکمل تائید بھی حاصل ہے اپنا دامن نہیں بچا پارہے ہیں ۔لیکن کانگریس ہزاروں فسادات ،لاکھوں قتل عام کے بعد آج بھی سیکولر زم کی ٹھیکیدار بنی ہوئی ہے ۔یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں جو بھی آواز مسلمانوں کی آواز بن کر ابھری وہ کانگریس کی طرف سے بنے ایم پی کی آواز نہیں تھی اور نہ ہی ہے ۔وہ خواہ سید شہاب الدین ہوں،صلاح الدین اویسی ہوں غلام محمود بنات والا یا پھر موجودہ پارلیمنٹ میں اسد الدین اویسی ان میں سے کون کانگریس کا ایم پی ہے۔ 
لیکن بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں مسلمانوں اور ان کے قائدین کو اپنی بے بصیرتی کی طرف دھیان دینا ہوگا ۔حالات اور ماحول کا تقاضہ یہ ہے کہ بھیڑیا آیابھیڑیا آیا والی گردان ختم کرکے اس بھیڑ کی کھال میں جو بھیڑیا ہے اس سے بچنے اور قوم کو بچانے کی فکر کرنی ہوگی ۔محض کسی کے دستور میں سیکولر زم کی تعریف کا ہونا ہی اس کے انصاف پسند ہونے کی دلیل نہیں ہے بلکہ اسے اس کے عمل سے پرکھئے ۔اس کا عمل اگر فاشسٹوں والا ہے تو اسے فاشسٹ مانئے ۔وہ جب وعدہ کرے کہ وہ آپ کے لئے کچھ کرے گا تو آپ اس سے پچھلے 67 سال کا حساب لیجئے ۔اس کے بعد کوئی فیصلہ کیجئے محض زبانی نہیں عمل درکار ہے اور بس کچھ نہیں ۔ لیکن مسلمانوں کی قیادت موسمی مولوی کے فتویٰ ،برساتی حشرات الارض کی طرح ابھرنے والی مسلم تنظیموں کی سیاسی پارٹیوں کو دی جانے والی حمایت اور مسلم نما سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کی لفاظی سے نہیں کی جاسکتی ۔بہتر ہوگا کہ مسلم نوجوان آگے آئیں حالات کا ادراک کریں اور قوم میں نئی روح پھونکنے کی کوشش کریں ۔یہ سعی اور کوشش دباؤ اور خوف سے نکلے بغیر ممکن ہی نہیں ہے ۔ان سیاسی پارٹیوں نے تدفین کا انتظام کریں اور نئی ابھرتی سیاسی قوت میں مسلمانوں کا رول ان کی بقا انکے خاص دینی شعار اور پہچان کے ساتھ اپنے لئے تعاون کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply