مودی سرکار کے پہلے ریل بجٹ کے طویل مدّتی اثرات- سرما یہ دارو ں کے اچھے دن آ گئے


نئی سرکار نے گزشتہ سوموار کو اپنا پہلا ریل بجٹ پیش کیا ، ظاہر ہے جب بھی کوئی بجٹ پیش ہوتا ہے تو اس میں  سیاسی جماعتوں سے لیکر عام آدمی تک کی دلچسپی  ہوتی ہے- جہاں تک  عام آدمی کا سوال ہے تو  غالباً   یہ  پہلا موقع تھا جب  عام آدمی کو اس بجٹ میں نہ تو کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی عوام ا لنّاس  میں تجسس کا ماحول ہی دکھائ  پڑا- وجہ صاف ہے کہ عام طور پر  عام آدمی کا سروکار  ریل کراۓسے ہوتا ہے اور سرکار نے کرسی سنبھالتے ہی کراۓمیں اضافہ  کر کے اپنے منصوبوں  اور  عزائم  کو ظاہر  کر دیا تھا- عوام   کی دوسری دلچسپی  نئی گاڑیوں پر ہوتی ہے، تو  ملک کے بیشتر حصّوں  کے لوگوں  نے  مایوسی ہی ظاہر کیا، مغربی  بنگال   کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی  کا یہ بیان   کہ “اگر میں را جیہ  سبھا یا لوک  سبھا  میں ہوتی تو پتہ نہیں کیا کرتی ” سے صاف ظاہر ہے کہ بجٹ نے عام آدمی  کو مایوس ہی کیا ہے، اور اگر سیاسی جماعتوں کی بات کریں تو   لوک سبھا میں سب سے بڑی پارٹی کانگریس   کے راہل گاندھی یہ کہتے  سنے گئے  کہ یہ ایک نا اہل بجٹ ہے اور کانگریس حکومت والی ریاستوں کی اندیکھی کی گئی ہے اور  سابق وزیر  ملکارجن کھرگے نے   کہا کہ یہ  ریلوے کا نہیں  بلکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور ایف ڈی آ ئی  کا بجٹ ہے، اس بجٹ میں غریبوں کے لئے کچھ بھی نہیں ، یہ  امیروں  کا بجٹ ہے…….یہ صرف احمدآباد کے لئے ہے- یہ تو ہوئی سیاست دا نوں کی باتیں – لیکن اس بجٹ پر  ایک طائرانہ نگاہ ڈالنے سے   صاف طور پر ایک بات سامنے آتی ہے کہ ہماری ریل   اب اس پلیٹ فارم پر   کھڑی   ہے  جہاں  سے عام آ د می  کا گزر تو   دشوار ہو ہی  جائیگا ساتھ ساتھ  اس بات کا   بھی خدشہ  نظر آتا ہے کہ منزل پر  پہنچ نے  کے بعد  بھارتیہ ریل جنتا  کی ملکیت  نہیں بلکہ ایک   پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی  میں تبدیل  ہو جائیگی –                                                                                              

جی ہاں!رواں سال کے بجٹ نے  یہ بات بلکل واضح کر دیا  ہیکہ   اب بھارتیہ ریل میں نجکاری   کی شروعات  ہو گئی  ہے اور اسے مزید  ٹالا نہیں جا سکتا ہے -اب   نہ صرف  ملکی صنعتی گھرانوں کے ہی بلکہ  غیر ملکی سرمایے  بھی  بھارتیہ ریل میں لگیں گے-  بلا شبہ ریل کو اپنے مختلف پروجیکٹس کو انجام تک پہنچانے  کے لئے  ٥ لاکھ کروڑ روپیہ کی ضرورت ہےاور یہ بات بھی اپنی جگہ بلکل صحیح ہے کہ پچھلی سرکاروں نے  ٣٠ برسوں میں  ١٥٧٨٨٣  کروڑ روپیہ کی مالیت کے پروجیکٹس کو منظوری دیا، لیکن  آج بھی تقریبا ٥٠ فی صد پروجیکٹس  ہوا میں لٹکے  ہیں- ان ادھورے  پروجیکٹس  کو مکمل کرنے کیے لئے  کروڑ ١٨٢٠٠٠ روپنےکی ضرورت ہے اور سرکار  اپنی  اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے   سرکاری نجی ساجھیداری اور غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کا  سہارا لینا چاہتی ہے –                                                                                                      
اب سرکار یہ توقع کر رہی  ہے کہ  ریل  بمثل  کمرشیل ادارہ پیسہ کماۓ اور عوامی  فلاح و بہبود کی تنظیم کی طرح خدمات انجام دے   -یعنی       اب ریل   کو ایک تجارتی  ادارہ کی شکل دی جائیگی- ریل کو کمرشیل ادارہ بنانے  سے پہلے  اور  ریل میں نجی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری سے پہلے چند باتوں پر غور کر لینا چاہیے تھا-اول تو یہ کہ ہمارا ملک ایک ویلفیئر اسٹیٹ  ہے اور کہا جاتا ہے کہ                             
India Moves on Indian Railways

یعنی ریل  ملک کے ہر طبقے کی ضرورت ہے اور ہمیں یہ بات کبھی بھی نہیں بھولنی چاہیےکہ ملک کی ایک  بری آبادی  مفلسی کی سطح سے نیچے رہتی ہے، اسکے بعد والا طبقہ   کسی طرح زندگی گزار پا تا  ہے، مڈل کلاس  آ با دی  کی حالت کسی سے نہیں چھپی ہے- اسکے علاوہ جو پروجیکٹس  ادھورے ہے انکی VIABILITY پر بھی غور کر لینا ضروری ہے – ریلوے کی کوئی بھی پالیسی  عوام الناس  کو سامنے رکھتے ہوے بننی چاہئے  نہ کہ ملک کے چنندہ  لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے –                                                                                                
نجی سرمایہ  کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ  کا  ریل میں لگنے  کا مطلب صاف ہے کے مسافروں کو اچھی  سہولیات مہیا کرانے  کے نام پر ریلوے کی خدمات تو پہلے مہنگی ہوگی ، کیونکی نجی و غیر ملکی کھلاڑیوں  کا  اولین  مقصد  منافع کمانا ہوتا ہے ، اور اسکے بعد مرحلہ وار ڈھنگ سے اسکی  مکمل نجی کاری  شروع  ہو گی – کیونکہ  ریلوے ملک کا سب سے برا  ادارہ ہے اور  یہ سرمایہ داروں کے لئے پیسہ بنانے کی مشین ثابت ہو سکتی  ہے اور سرکار کے  رجحان اس بات کی غمازی کرتے نظر  آتے  ہیں کے ریلوے کی بیماری  کی ایک ہی دوا ہے نجکاری  اور یہ دوا عام  آدمی کیلئے  چاہے جتنی کڑوی کیوں نہ ہو  پینی پڑیگی ، کیونکہ  اب ہمیں ہائی سپیڈ  ٹرین ،موبائل  آفس اور  برانڈڈ  کھانہ چاہیے-                                                                                                                                     
  اب  دو ران سفر  مسافروں  کو  مشہور  برانڈ  کے کھا نے بھی کھا نے کو ملینگے ، ظاہر ہے کہ کسی بھی برانڈ کو بنانے میں سالوں لگتے ہیں  اور برانڈ بلڈنگ کی لاگت بھی  اچّھی خاصی ہوتی ہے ، اب ریل مسافروں کو کھانے کے ساتھ ساتھ مشہور برانڈ کی قیمت بھی  ادا  کرنی ہوگی – ہاں، یہ برانڈڈ فوڈ  چند لوگوں کو ضرور ایک خاص ذائقہ  دیگا لیکن  اکثریت  کے لئے  یہ کڑوا  ہی ثابت ہونے  والا ہے- اس  ریل بجٹ سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اب سرما یہ دارو ں  کے اچھے دن آ گئے –

Leave a Reply