قصہ خضر ؑ و موسی

 
راز حیات پوچھ لے خضر خستہ گام سے* زندہ ہر ایک چیز ہے کوشش ناتمام سے
 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبد العزیز ۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 
مکہ معظمہ میں آنحضرت ﷺ اور آپ ؐکے ساتھیوں پر جب کفار و مشرکین ہر طرح سے ستانے لگے۔ مار پیٹ، معاشی دباؤ کے ہتھیار استعمال کرنے لگے، ظلم و ستم اور مزاحمت انتہا کو پہنچ گئی تو مسلمان حبشہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ اسی وقت مسلمانوں کو اصحاب کہف کا قصہ سنایا گیا کہ ان کی ہمت بندہے اور ان کو معلوم ہو کہ اہل ایمان اپنا ایمان بچانے کیلئے اس سے پہلے کیا کچھ کر چکے ہیں۔ اس کے بعد قصہ خضر ؑ و موسیٰ ؑ سنایا گیا یہ بتانے کیلئے کہ مؤمنین کو تسلی ہواور کفار کو ان کے کئے ہوئے سوال کا ایسا جواب بھی مل جائے جو اس وقت کے حالات پر پورے کا پورا چسپاں ہوجائے۔ قصہ ذوالقرنین بھی اسی نوعیت کا ہے۔ یہ تینوں سوالوں کا جواب 
سورہ کہف میں اختصار کے ساتھ دیا گیا ہے۔
 

 

 قصہ اصحاب کہف اور چند بنیادی باتوں کے بعد قصہ خضر ؑ و موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ یوں شروع کرتا ہے:۔
 

 

(ذرا ان کو وہ قصّہ سناؤ جو موسیٰ کو پیش آیا تھا) جبکہ موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا تھاکہ ’’میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں، ورنہ میں ایک زمانۂ دراز تک چلتا ہی رہوں گا۔‘‘ پس جب وہ ان کے سنگم پر پہونچے تو اپنی مچھلی سے غافل ہوگئے اور وہ نکل کر اس طرح دریا میں چلی گئی جیسے کہ کوئی سُرنگ لگی ہو۔ آگے جاکر موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا ’’لاؤ ہمارا ناشتہ، آج کے سفر میں تو ہم بُری طرح تھک گئے ہیں۔‘‘ خادم نے کہا آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم ا‘س چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اس وقت ۔۔۔۔۔۔ مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کردیا کہ میں اس کا ذِکر (آپ سے کرنا)بھُول گیا۔ مچھلی تو عجیب طریقے سے نِکل کر دریا میں چلی گئی۔‘‘ موسیٰ نے کہا ’’اسی کی تو ہمیں تلاش تھی۔‘‘ چنانچہ وہ دونوں اپنے نقشِ قدم پر پھر واپس ہوئے اور وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنی طرف سے ایک خاص علم عطا کیا تھا۔
 

 

موسیٰ نے اس سے کہا ’’کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے بھی اُس دانِش کی تعلیم دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے اور جس چیز کی آپ کو خبر نہ ہو آخر آپ اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں۔‘‘ موسیٰ نے کہا ’’اِن شاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا۔‘‘ اس نے کہا ’’اچھا اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیں جب تک کہ میں خود اس کا آپ سے ذکر نہ کروں۔‘‘

 

اب وہ دونوں روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ ایک کشتی میں سوار ہوگئے تو اس شخص نے کشی میں شگاف ڈال دیا۔ موسیٰ نے کہا ’’آپ نے اس میں شگاف ڈال دیا تاکہ سب کشتی والوں کو ڈبو دیں؟ یہ تو آپ نے ایک سخت حرکت کرڈالی۔‘‘ اس نے کہا ’’میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے۔‘‘ موسیٰ نے کہا ’’بھول چوک پر مجھے نہ پکڑئیے۔ میرے معاملے میں آپ ذرا سختی سے کام نہ لیں۔‘‘

 

پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ان کو ایک لڑکا ملا اور اس شخص نے اسے قتل کردیا۔ موسیٰ نے کہا ’’آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی حالانکہ اس نے کسی کا خون نہ کیا تھا؟ یہ کام تو آپ نے بہت ہی بُرا کیا۔‘‘ اس نے کہا ’’میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے۔‘‘ موسیٰ نے کہا ’’اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں۔ لیجئے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر گیا۔‘‘

 

پھر وہ آگے چلے یہاں تک کہ ایک بستی مٰں پہونچے اور وہاں کے لوگوں سے کھانا مانگا، مگر انہوں نے ان دونوں کی ضیافت سے انکار کردیا۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گِرنا چاہتی تھی۔ اس شخص نے اس دیوار کو پھر قائم کردیا۔ موسیٰ نے کہا ’’اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اُجرت لے سکتے تھے۔‘‘ اس نے کہا ’’بس، میرا تمہارا ساتھ ختم ہوا۔ اب میں ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہ کرسکے۔ اس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں، کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔ رہا وہ لڑکا، تو اس کے والدین مومن تھے، ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر سے ان کو تنگ کرے گا، اس لئے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں۔ اس دیوار کے نیچے ان بچوں کیلئے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لئے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پر کیا گیا ہے میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کیاہے۔ یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تم صبر نہ کرسکے۔ ‘‘(سورہ کہف، ۶۰۔۸۲)

 

تبصرہ

 

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہما السلام کا قصہ سورہ کہف کے دو رکوعوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ان واقعات کو قصہ خضر و موسیٰ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سابقہ آیات کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی دعوت کے خلاف جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ شدت پسندی انتہا ک پہنچ چکی تھی۔ اذیتوں کی بھٹی پوری طرح گرم ہوچکی تھی۔ آنحضرت ﷺ جیسے جیسے دعوت و تبلیغ میں تیزی پیدا کرتے جارہے تھے ویسے ویسے مشرکین کی جانب سے انکار اور اذیت رسانی کے عمل میں بھی تیزی آتی جارہی تھی حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ نے قریش کو یہ وارننگ دینا ضروری سمجھا کہ تم لوگوں نے اگر اپنے روئیے میں تبدیلی نہ کی اور تمہاری مخالفتیں اسی طرح جاری رہیں تو مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں حق کی قبولیت سے محروم نہ کردیا جائے، یعنی تمہارے دلوں پر محرومی کی مہر نہ لگا دی جائے۔ اسی صورت میں پھر یہ خطرہ یقین کی صورت اختیار کرجاتا ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کا عذاب دور نہیں، عذاب بھی تم پرنازل ہوسکتا ہے اور اسی طرح مسلمانوں کو بھی یہ بات یاد دلانا ضروری تھا کہ تمہیں کفار کی اذیت رسانیوں کے مقابلے میں صبر اور حوصلے سے کام لینا ہوگا۔ بظاہر تم دیکھ رہے ہو کہ مخالفتیں کے ہجوم میں حوصلے ٹوٹنے لگتے ہیں اور کفار کی اذیت رسانیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کفار جب دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کیلئے کوئی جائے پناہ نہیں اور کئی ذات ہمارا ہاتھ روکنے والی نہیں تو وہ اپنے کافرانہ روئیے میں اور دلیر ہوجاتے ہیں اور مسلمان جب دیکھتے ہیں کہ ہماری مظلومیت روز بروز بڑھتی جارہی ہے تو وہ اسلام کے مستقبل کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں اس سے پہلے کہ کوئی غلط فیصلہ حالات کی رفتار پر اثر انداز ہو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسی رہنمائی ملنی چاہئے جس سے صحیح بات سمجھنے اور صحیح رائے اختیار کرنے میں آسانی ہو۔ چناچہ ایسے ہی حالت میں یہ واقعات مسلمانوں کو سنائے گئے کہ تم بظاہر دیکھ رہے ہو کہ مسلمانوں کی مظلومیت گہری ہوتی جارہی ہے اور انہیں کہیں سے کسی مدد ملنے کی امید دکھائی نہیں دیتی۔ اور دوسری طرف کافروں کے ہاتھ پکڑنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ اس سے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی اندھیر نگری ہے جس میں کسی چوپٹ راجے کی حکومت ہے، جس میں طاقت کی بات چلتی ہے اور مظلومیت زخم چاٹتی رہ جاتی ہے۔ کوئی حق، حق نہیں۔ اور کوئی باطل ، باطل نہیں۔ا اگر حق کمزور ہے تو اس کا کوئی پرسان حال نہیں اور باطل طاقتور ہے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ انہیں ان واقعات سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تم ظاہر بین نگاہ سے جو کچھ دیکھ رہے ہو وہ دراصل حقیقت نہیں اور جو حقیقت ہے وہ تمہاری نگاہوں سے مخفی ہے۔ اس قصے میں پروردگار نے اپنی مشیت کے گوشے سے پردہ اٹھاکر یہ دکھایا ہے کہ تم جو کچھ ظاہر میں دیکھتے ہو ضروری نہیں کہ حقیقت بھی وہی ہو، ان واقعات کے آئینہ میں دیکھو کہ بظاہر واقعہ کیا پیش آیا ہے اور بعد میں اس کی تعبیر کیسی سامنے آئی ہے۔ اس سے یہ حقیقت سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ انسان جو کچھ بظاہر دیکھتا ہے ضروری نہیں کہ انجام کے اعتبار سے بھی وہی ہو  

 

مختصراً اس قصے میں جو سبق مسلمانوں کو دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا کارخانہ مصلحتوں پر چل رہا ہے جو انسانوں کی نظر سے اوجھل ہے جس کی وجہ سے انسان حالات اور واقعات کو دیکھ کر حیران و پریشان ہوجاتا ہے۔ یہ کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ یہ تو بڑا غضب ہوگیا! حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ واقعات و حالات پر سے پردہ اٹھا دے انسان ک اچھی طرح معلوم ہو جائے کہ اس دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے، صحیح ہورہا ہے اور بظاہر انسان کو جس چیز میں برائی نظر آتی ہے آخر کار وہ بھی نتیجہ کے لحاظ سے خیر ہی کیلئے ہوتی ہے۔ اس حقیقت کو عیاں کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے قصۂ خضر و موسیٰ علیہما السلام پہلے مومنین کو سنا یا، مکہ کے کفار پر اس حقیقت کو واضح کیا اور اس قصہ کو قیامت تک کیلئے خدا کے نیک بندوں کو جو ایمان و یقین کی دولت سے مالامال ہوں گے انہیں مطمئن کرتا رہے گا۔

 

Leave a Reply